Brailvi Books

سوانحِ کربلا
51 - 188
حاکم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :
اَللّٰہُمَّ اَعِزِّ الْاِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّۃً ''
یا رب! عزوجل اسلام کو خاص عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ غلبہ وقوت عطافرما۔'' (1)

    حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول ہوئی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبوت کے چھٹے سال 27 برس کی عمر میں مشرف باسلام ہوئے۔

    ابو یعلی وحاکم و بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تلوار لے کر نکلے۔ راہ میں آپ کو قبیلۂ بنی زُُہْرہ کا ایک شخص ملا۔کہنے لگا کہاں کا ارادہ ہے؟ آپ نے کہا کہ میں(حضرت) محمد ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ) کے قتل کا ارادہ رکھتاہوں۔ اس نے کہا کہ انھیں قتل کرکے تم بنی ہاشم اور بنی زہرہ کے ہاتھوں کیسے بچو گے ۔ آپ نے کہا کہ میرے خیال میں تو بھی دین سے پھر گیا۔ اس نے کہا: میں آپ کو اس سے عجیب تر بتاتاہوں آپ کی بہن اور بہنوئی نے آپ کا دین ترک کردیا ۔ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ اُن کے پاس پہنچے۔ وہاں حضرت خبّاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اور وہ لوگ سورۂ طہ پڑھ رہے تھے، جب انہوں نے حضرت عمر کی آہٹ سنی تو مکان میں چھپ گئے۔ حضر ت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مکان میں داخل ہوکر کہا:تم کیا کہہ رہے ہو؟ کہا ہم آپس میں باتیں کررہے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے :شاید تم لوگ بے دین ہوگئے ہو۔ آپ کے بہنوئی نے کہا :اے عمر!اگر تمہارے دین کے سوا کسی اور دین میں حق ہو۔ اتنا کلمہ سنتے ہی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُن پر ٹوٹ پڑے اورانھیں بہت مارا۔ انھیں
1۔۔۔۔۔۔المستدرک للحاکم، کتاب معرفۃ الصحابۃ، باب النہی عن لبس الدیباج...الخ، 

الحدیث:۴۵۴۱،ج۴،ص۳۴
Flag Counter