حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد فضل میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مرتبہ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اجداد کے اسماء یہ ہیں : عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العُزّٰی بن ریاح بن عبد اللہ بن قُرْط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لُوءَ ی۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عام فیل کے تیرہ برس بعد پیدا ہوئے ( نووی) آپ اشرافِ قریش میں سے ہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں منصبِ سِفارَت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف مُفَوَّض تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ابو حَفْص اور لقب فاروق ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قدیم ُالاسلام ہیں۔ 40 مردوں ،11 عورتوں یا39 مردوں، 23عورتوں یا45 مردوں 11عورتوں کے بعد اسلام لائے۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مسلمان ہونے سے اسلام کی قوت و شوکت زیادہ ہوئی۔ مسلمان نہایت مسرور ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سا بقین اولین اور عشرۂ مبشرہ بالجنۃ اور خلفائے راشدین میں سے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے کِبار علماءِ زُہاد میں آپ کا ممتاز مرتبہ ہے۔ (1)
ترمذی کی حدیث میں ہے کہ حضور انور علیہ الصلوٰۃ والسلام دعا فرماتے تھے کہ یارب عزوجل! عمر بن خطاب اورابو جہل بن ہشام میں سے جو تجھے پیارا ہو اس کے ساتھ اسلام کو عزت دے۔(2)