Brailvi Books

سوانحِ کربلا
49 - 188
حضرت کاتوکلِ صادق تھا اور رضائے حق پر راضی تھے۔

     اسی بیماری میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عبدالرحمن عوف اور حضرت علی مرتضی اور حضرت عثمان غنی وغیر ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مشورے سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے بعد خلافت کے لئے نامزد فرمایااور پندرہ روز کی علالت کے بعد 22 جمادی الاخری 13 ھ؁ شب ِسہ شنبہ کو تریسٹھ سال کی عمر میں اس دارِنا پائیدار سے رحلت فرمائی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

    حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جنازہ کی نماز پڑھائی اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی وصیت کے مطابق پہلوئے مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں مدفون ہوئے۔ 

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو سال اور سات ماہ کے قریب خلافت کی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات سے مدینہ طیبہ میں ایک شور برپا ہوگیا۔ آپ کے والد ابو قحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جن کی عمر اس وقت ستانوے برس کی تھی۔ دریافت کیا کہ یہ کیسا غوغا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ آپ کے فرزند رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رحلت فرمائی۔ کہا بڑی مصیبت ہے ان کے بعد کارِ خلافت کو ن انجام دے گا؟ کہا گیا: حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ آپ کی وفات سے چھ ماہ بعد آپ کے والد ابو قحافہ نے بھی رِحْلَت فرمائی۔(1)

    کیا خوش نصیب ہیں خود صحابی، والد صحابی ، بیٹے صحابی ، پوتے صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہم و رضواعنہ۔
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء، ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ، فصل فی مرضہ ووفاتہ...الخ، 

ص۶۲۔۶۶ملتقطاً
Flag Counter