| سوانحِ کربلا |
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی خلافت کے تھوڑ ے سے زمانہ میں شب و روز کی پیہم سعی سے بدخواہان اسلام کے حو صلے پست کردئیے اور ارتداد کاسیلاب روک دیا۔ کفار کے قلوب میں اسلام کا وقار راسخ ہوگیا اور مسلمانوں کی شوکت و اقبال کے پھریرے عرب و عجم بحروبر میں اڑنے لگے۔
آپ قرآن کریم کے پہلے جامع ہیں اور آپ کے عہد مبارک کا زرین کارنامہ ہے کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ جہادوں میں وہ صحابہ کرام جو حافظِ قرآن تھے شہید ہونے لگے تو آپ کو اندیشہ ہوا کہ اگر تھوڑے زمانہ بعد حفاظ باقی نہ رہے تو قرآن پاک مسلمانوں کو کہا ں سے میسر آئے گا۔ یہ خیال فرماکر آپ نے صحابہ کوجمعِ قرآن کا حکم دیا اور مصاحف مرتب ہوئے۔حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کا اصلی سبب حضور انور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہے جس کا صدمہ دمِ آخر تک آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قلب مبارک سے کم نہ ہوا اور اس روزسے برابر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جسم شریف گھلتا اور دبلا ہوتا گیا ۔
7 جمادی الاخر ی 13 ھ روز دو شنبہ کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غسل فرما یا ، دن سرد تھا ، بخار آگیا۔ صحابہ عیادت کے لئے آئے۔ عرض کرنے لگے: اے خلیفۂ رسول! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ورضی اللہ تعالی عنہ اجازت ہوتو ہم طبیب کو بلائیں جو آپ کو دیکھے۔ فرمایا کہ طبیب نے تو مجھے دیکھ لیا۔ انہوں نے دریافت کیا کہ پھر طبیب نے کیا کہا؟ فرمایا کہ اس نے فرمایا: اِنِّیْ فَعَّالٌ لِّمَا اُرِیْدُ۔ یعنی میں جو چاہتا ہو ں کرتاہوں۔ مراد یہ تھی کہ حکیم اللہ تعالیٰ ہے اس کی مرضی کو کوئی ٹال نہیں سکتا، جو مشیت ہے ضرور ہوگا۔یہ