وقت آپس کی جنگ موقوف کرو۔ انھیں حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس طریق عمل سے سبق لینا چاہیے کہ آ پ نے ایسے نازک وقت میں بھی باطل کی سرشِکَنی میں توقف نہ فرمایا۔ جو فرقے اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے پیدا ہوئے ہیں ان سے غفلت کرنا یقیناً اسلام کی نقصان رسانی ہے۔
پھر حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ لشکر لے کریمامہ کی طرف مسیلمہ کذاب کے قتال کے لئے روانہ ہوئے۔ دونوں طرف سے لشکر مقابل ہوئے ، چند روزجنگ رہی۔ آخِرُ الا َمْر مسیلمہ کذاب ، وحشی (قاتل حضرت امیر حمزہ) کے ہاتھ سے مارا گیا۔ مسیلمہ کی عمر قتل کے وقت ڈیڑھ سو برس کی تھی۔ 12ھ میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے علا ابن حضرمی کو بحرین کی طرف روانہ کیا۔ وہاں کے لوگ مرتد ہوگئے تھے۔ جُواثيٰ میں ان سے مقابلہ ہوا اور بکرمہ تعالیٰ مسلمان فتح یاب ہوئے۔ عمان میں بھی لوگ مرتد ہوگئے تھے۔ وہاں عکرمہ ابن ابی جہل کو روانہ فرمایا۔ نجیر کے مرتد ین پر مہاجربن ابی امیہ کو بھیجا۔ مرتدین کی ایک اور جماعت پر زیاد بن لبید انصاری کو روانہ کیا اسی سال مرتدین کے قتال سے فارغ ہوکر حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سرزمین بصرہ کی طرف روانہ کیا۔ ا ۤپ نے اہل ابلہ پر جہاد کیا اور ابلہ فتح ہوا اور کسریٰ کے شہر جو عراق میں تھے فتح ہوئے۔ اس کے بعد آ پ نے عمر وبن عاص اور اسلامی لشکروں کو شام کی طرف بھیجا اور جمادی الاولیٰ13ھمیں واقعہ اجنادین پیش آیا او ر بفضلہٖ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ اسی سال واقعہ مرج الصفرہوا اور مشرکین کو ہزیمت ہوئی۔(1)