Brailvi Books

سوانحِ کربلا
46 - 188
نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے قتال کرنے کے لئے اٹھے، امیر المؤمنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے وقت کی نزاکت ،اسلام کی نو عمری ،دشمنوں کی قوت، مسلمانوں کی پریشانی،پَراگَنْدَہ خاطِری کا لحاظ فرماکر مشورہ دیا کہ اس وقت جنگ کے لئے ہتھیار نہ اٹھائے جائیں مگر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ارادہ پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہے اور آپ نے فرمایا کہ قسم بخدا! جو لوگ زمانہ اقدس میں ایک تسمہ کی قدر بھی ادا کرتے تھے اگر آج انکار کریں گے تو میں ضرور ان سے قتال کروں گا۔ آخر کار آپ قتال کے لئے اٹھے اور مہاجرین و انصار کو ساتھ لیا اور اعراب اپنی ذریتوں کولے کر بھاگے۔ پھر آپ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امیر لشکر بنایا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں فتح دی اور صحابہ نے خصوصاً حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحتِ تدبیر اور اِصابتِ رائے کا اعتراف کیااور کہا :خداکی قسم! اللہ تعالیٰ نے حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سینہ کھول دیا جو انہوں نے کیا حق تھا۔(1) 

    اور واقعہ بھی یہی ہے کہ اگر اس وقت کمزوری دکھائی جاتی تو ہر قوم اور ہر قبیلہ کو احکامِ اسلام کی بے حرمتی اور ان کی مُخالَفَت کی جرأٔت ہوتی اور دینِ حق کا نظم باقی نہ رہتا۔ یہاں سے مسلمانوں کو سبق لینا چاہیے کہ ہر حالت میں حق کی حمایت اور ناحق کی مخالفت ضروری ہے اور جو قوم ناحق کی مخالفت میں سستی کرے گی جلد تباہ ہوجائے گی۔ آج کل کے سادہ لوح فرقِ باطلہ کے رد کرنے کو بھی منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء، ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ، فصل فی ما وقع فی خلافتہ، 

ص۵۶۔۵۷ملخصاً
Flag Counter