Brailvi Books

سوانحِ کربلا
45 - 188
بعد اسلام کا شیرازہ ضرور درہم برہم ہوجائے گا اور اس کی سَطْوَت وشوکت باقی نہ رہے گی۔ انہوں نے جب دیکھا کہ لشکر اسلام رومیوں کی سرکوبی کے لیے روانہ ہوگیا اسی وقت ان کے خیالی منصوبے غلط ہوگئے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ سید عالم علیہ الصلوٰۃ و السلام نے اپنے عہد مبارک میں اسلام کے لیے ایسا زبردست نظم فرمادیا ہے جس سے مسلمانوں کا شِیْرَازَہ درہم برہم نہیں ہوسکتا اور وہ ایسے غم و اَنْدُ وْہ کے وقت میں بھی اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور اس کے سامنے اقوام عالم کو سَرْنِگُوْں کرنے کے لیے ایک مشہور و زبردست قوم پر فوج کَشی کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ خیال غلط ہے کہ اسلام مٹ جائے گا اور اس میں کوئی قوت باقی نہ رہے گی بلکہ ابھی صبر کے ساتھ دیکھنا چاہیے کہ یہ لشکر کس شان سے واپس ہوتاہے۔ فضلِ الٰہی سے یہ لشکرِ ظفر پیکر فتحیاب ہوا، رومیوں کو ہزیمت ہوئی۔

    جب یہ فاتح لشکر واپس آیا وہ تمام قبائل جو مرتد ہونے کا ارادہ کرچکے تھے اس ناپاک قصد سے باز آئے اور اسلام پر صدق کے ساتھ قائم ہوئے۔ بڑے بڑے جلیل القدر صائب الرائے صحابہ علیہم الرضوان جو اس لشکر کی روانگی کے وقت نہایت شدت سے اختلاف فرمارہے تھے اپنی فکر کی خطا اور صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے مبارک کے صائب اور ان کے علم کی وسعت کے معترِف ہوئے۔(1)

    اسی خلافت مبارکہ کا ایک اہم واقعہ مانعینِ زکوٰۃ کے ساتھ عَزْمِ قِتال ہے جس کا مختصر حال یہ ہے جب حضور اقدس نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کی خبر مدینہ طیبہ کے حوالی و ا طراف میں مشہو ر ہوئی تو عرب کے بہت گروہ مرتد ہوگئے اور انہوں
1۔۔۔۔۔۔الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ،القسم الثانی،الباب الاول فی مناقب خلیفۃ رسول 

اﷲ ابی بکر الصدیق...الخ، الفصل التاسع فی خصائصہ، ذکر شدۃ باسہ وثبات 

قلبہ...الخ،ج۱، الجزء۱،ص۱۴۸،۱۴۹ملخصاً
Flag Counter