رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روانہ کئے ہوئے لشکر کو واپس کرنا اور مرضئ مبارکہ کے خلاف جرأت کرنا صدیق سراپا صدق کا رابطہ نیا ز مندی گوارانہ کرتاتھا اور اس کو وہ ہر مشکل سے سخت ترسمجھتے تھے۔اس پر صحابہ کا اصرار کہ لشکر واپس بلالیاجائے اور خود حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لوٹ آنا اورحضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کرنا کہ قبائل عر ب آمادۂ جنگ اور درپے تخریب ِاسلام ہیں اور کار آزمابہادر میرے لشکر میں ہیں انھیں اس وقت روم پر بھیجنا اور ملک کوایسے دلاور مردانِ جنگ سے خالی کرلینا کسی طرح مناسب معلوم نہیں ہوتا۔یہ حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے اور مشکلات تھیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اعتراف کیا ہے کہ اس وقت اگرحضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جگہ دوسرا ہوتا تو ہرگز مستقل نہ رہتا اور مصائب وافکار کا یہ ہجوم اور اپنی جماعت کی پریشان حالت مبہوت کر ڈالتی مگر اللہ اکبر حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پائے ثبات کوذَرَّہْ بھر لغزش نہ ہوئی اور ان کے استقلال میں ایک شمّہ فرق نہ آ یا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر پرند میری بوٹیاں نوچ کھائیں تومجھے یہ گوارا ہے مگر حضور انور سیّدعالَم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مرضئ مبارک میں اپنی رائے کودخل دینا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روانہ کئے ہوئے لشکر کو واپس کرنا ہرگز گوارا نہیں۔یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ ایسی حالت میں آپ نے لشکر روانہ فرمادیا۔
اس سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیرت انگیز شجاعت و لیاقت اور کمالِ دلیری و جوانمردی کے علاوہ ان کے توَكّلِ صادق کا پتہ چلتا ہے اور دشمن بھی انصافاً یہ کہنے پر مجبور ہوتاہے کہ قدرت نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعدخلافت و جانشینی کی اعلیٰ قابلیت و اہلیت حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطا فرمائی تھی۔اب یہ لشکر روانہ ہوا اور جو قبائل مرتد ہونے کے لیے تیار تھے اور یہ سمجھ چکے تھے کہ حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کے