Brailvi Books

سوانحِ کربلا
35 - 188
    حضرت صدیق حضور انور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ سے دو سال چندماہ بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے یہی صحیح ہے اور یہ جومشہور ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت صدیق سے دریافت فرمایا کہ ہم بڑے ہیں یاتم؟ انہوں نے عرض کیا کہ بڑے حضور ہیں، عمر میر ی زیادہ ہے۔ یہ روایت مرسل و غریب ہے اور واقع میں یہ گفتگو حضرت عباس سے پیش آئی تھی۔(1)

    آپ مکہ مکرمہ میں سکونت رکھتے تھے۔ بسلسلہ تجارت باہر بھی تشریف لے جاتے تھے۔ اپنی قوم میں بہت بڑے دولت مند اور صاحبِِ مُرَوَّت واحسان تھے۔ زمانہ جاہلیت میں قریش کے رئیس اور ان کی مجلس شوریٰ(2) کے رکن تھے۔ معاملہ فہمی و دانائی میں آپ شہرت رکھتے تھے اسلام کے بعد آپ بالکل اسی طرف مصروف ہوگئے اور سب باتوں سے دل ہٹ گیا۔ زمانہ جاہلیت میں بھی آپ کا چال چلن نہایت پاکیزہ اور افعال نہایت متین و شائستہ تھے۔ (3) 

    ابن عساکر نے ابو العالیہ ریاحی سے نقل کیا ہے کہ مجمعِ اصحاب میں حضرت ابوبکر سے دریافت کیا گیا کہ آپ نے زمانہ جاہلیت میں کبھی شراب پی ہے ؟فرمایا:پناہ بخدا ، اس پر کہاگیا:یہ کیوں؟ فرمایا:میں اپنی مُرَوَّت و آبرو کی حفاظت کرتا تھا اورشراب پینے والے کی مروت و آبرو برباد ہوجاتی ہے۔ یہ خبرحضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء،ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ،فصل فی مولدہ ومنشئہ،ص۲۴ 

2۔۔۔۔۔۔مجلس ِشوریٰ کی رکنیت ایک بڑا منصب تھاعرب میں کوئی بادشاہ تو تھا نہیں، تمام امور ایک کمیٹی کے 

متعلق تھے جس کے دس ممبر تھے۔کوئی جنگ کا ،کوئی مالیات کا،کوئی کسی اور کام کااور ہر ممبراپنے محکمہ 

کی ولایتِ عامہ اور اختیارِ کامل رکھتاتھا۔۱۲منہ

3۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء،ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ،فصل فی مولدہ ومنشئہ،ص۲۴
Flag Counter