Brailvi Books

سوانحِ کربلا
34 - 188
سے سناتھا۔حضر ت ابو بکر رضی ا للہ تعالیٰ عنہ کو سنا کر کہنے لگے کہ اب حضور کی نسبت کیا کہتے ہو؟ آپ نے فرمایا:
لَقَدْ صَدَقَ اِنِّیْ لَاُصَدِّقُہٗ
(حضور نے یقینا سچ فرمایا، میں حضور کی تصدیق کرتا ہوں) اسی وجہ سے آپ کا لقب صدیق ہوا۔ (1)

    حاکم نے مستدرک میں نزال بن سبرہ سے باسناد جید روایت کی کہ ہم نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ وہ شخص ہیں جن کا نام اللہ تعالیٰ نے بزبان جبریلِ امین و بزبانِ سرورِانبیا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم صدیق رکھا ، وہ نمازمیں حضور کے خلیفہ تھے۔حضور نے انھیں ہمارے دین کے لیے پسند فرمایا تو ہم اپنی دنیا کے لئے ان سے راضی ہیں۔ (2) (یعنی خلافت پر )

     دار قطنی وحاکم نے ابو یحییٰ سے روایت کیا کہ میں شمار نہیں کرسکتا کتنی مرتبہ میں نے علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبرسرِمنبر یہ فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر ابو بکر کا نام صدیق رکھا۔ (3)

    طبرانی نے بسندِجید صحیح حکیم بن سعد سے روایت کی ہے کہ میں نے علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بحلف فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر کا نام صدیق آسمان سے نازل فرمایا۔(4)
1۔۔۔۔۔۔المستدرک للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی اللہ عنہم، الاحادیث المشعرۃ 

بتسمیۃ ابی بکر صدیقاً، الحدیث:۴۴۶۳، ج۴،ص۴

2۔۔۔۔۔۔المستدرک للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی اللہ عنہم، الاحادیث المشعرۃ 

بتسمیۃ ابی بکرصدیقاً، الحدیث:۴۴۶۲ ،ج۴،ص۴

وتاریخ الخلفاء، ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ، فصل فی اسمہ ولقبہ،ص۲۳ 

3۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء، ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ، فصل فی اسمہ ولقبہ،ص۲۳ 

4۔۔۔۔۔۔المعجم الکبیر للطبرانی،الحدیث:۱۴،ج۱،ص۵۵
Flag Counter