| سوانحِ کربلا |
اس سے اندازہ کرنا چاہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آل و اصحاب کے ساتھ محبت کرنا اور ان کے ادب و تعظیم کو لازم جاننا کس قدر ضروری ہے۔ اور یقینا ان حضرات کی محبت سیّد عالم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت ہے اورحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ایمان۔
حدیث:6
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَللہَ اَللہَ فِیْ اَصْحَابِیْ لَا تَتَّخِذُوْھُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِی فَمَنْ اَحَبَّھُمْ فَبِحُبِّیْ اَحَبَّھُمْ وَمَنْ اَبْغَضَھُمْ فَبِبُغْضِیْ اَبْغَضَھُمْ وَمَنْ اٰذَا ھُمْ فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اَذَی اللہَ وَمَنْ اٰذَی اللہَ یُوْشِکُ اَنْ یَّأْخُذَہ (11)(رواہ الترمذی)
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مکرر فرمایا کہ میرے اصحاب کے حق میں خدا سے ڈرو خدا کا خوف کرو۔ انھیں میرے بعد نشانہ نہ بناؤ۔جس نے انھیں محبوب رکھا میری محبت کی وجہ سے محبوب رکھا اور جس نے ان سے بغض کیا وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے، اس لئے اس نے ان سے بغض رکھا، جس نے انھیں ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی جس نے مجھے ایذا دی اس نے بیشک خدائے تعالیٰ کو ایذا دی ،جس نے اللہ تعالیٰ کو ایذا دی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسےگرفتار کرے۔ مسلمان کوچاہیے کہ صحابہ کرام کا نہایت ادب رکھے اور دل میں ان کی عقیدت و محبت کو جگہ دے۔ ان کی محبت حضور کی محبت ہے اور جو بد نصیب صحابہ کی شان میں بے ادبی
1۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب المناقب، باب فی من سب اصحاب النبی،الحدیث:۳۸۸۸، ج۵،ص۴۶۳