Brailvi Books

سوانحِ کربلا
32 - 188
کے ساتھ زبان کھولے وہ دشمنِ خدا و رسول ہے۔مسلمان ایسے شخص کے پاس نہ بیٹھے۔
 حدیث:7
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رُسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا رَاَیْتُمُ الَّذِیْنَ یَسُبُّوْنَ اَصْحَابِیْ فَقُوْلُوْا لَعْنَۃُ اللہِ عَلٰی شَرِّ کُمْ۔ (1)(رواہ الترمذی)
حضور اقدس رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :جب تم اُ ن لوگوں کو دیکھو جو میرے اصحاب کی بدگوئی کرتے ہیں تو کہہ دو کہ تمہارے شر پر خدا کی لعنت۔

    ان احادیث سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا مرتبہ اور مؤمن کے لئے اُن کے ساتھ محبت و اخلاص و ادب و تعظیم کا لازم ہونا اور ان کے بدگویوں سے دور رہنا ثابت ہوا۔ اسی لئے اہل سنت کو جائز نہیں کہ شیعوں کی مجلس میں شرکت کریں۔ اصحابِِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں سے میل جول مؤمن ِخالص الاعتقاد کا کام نہیں۔ آدمی اپنے دشمنوں کے ساتھ نشست و برخاست اور بخوش دلی بات کرنا گوارا نہیں کرتا ہے تو دشمنانِ رسول و دشمنانِ اصحابِِ رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ کیسے گوارا کرسکتا ہے۔ 

    اصحاب کبار میں خلفاء راشدین یعنی

(1)سیدنا حضرت ابوبکر صدیق

(2)سیدنا حضرت عمر فاروق

(3)سیدنا حضرت عثمان غنی

(4)سیدنا حضرت علی مرتضیٰ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا مرتبہ سب سے بلند وبالا ہے۔
1۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب المناقب، باب فی من سب اصحاب النبی،الحدیث:۳۸۹۲، 

ج۵،ص۴۶۴
Flag Counter