حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضور اکرم رسول مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ مجھ سے بغض نہ کرنا کہ دین سے جدا ہو جائے گا۔میں نے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کیسے بغض کرسکتا ہو ں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہی کی بدولت اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت فرمائی۔ فرمایا کہ عربوں سے بغض کرے تو ہم سے بغض کرتا ہے۔
ان احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے نسبت رکھنے کی وجہ سے اہل عرب کے ساتھ محبت رکھنا مؤ من کے لئے لازم اور علامت ایمان ہے اور اگر کسی کے دل میں اہل عرب کی طرف سے کدورت ہو تو یہ اس کے ایمان کاضعف اور محبت کی خامی ہے اور اہل عرب توحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے وطن پاک کے رہنے والے ہیں، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے نسبت رکھنے والی ہر چیز مومنِ مخلص کے لئے قابلِ احترام اور محبوبِِ دل ہے۔ صحابہ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین حضو ر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی قدم گاہ کا ادب کرتے تھے۔ چنانچہ منبرشریف کے جس درجہ پرحضورانورعلیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف رکھتے خلیفۂ اول نے ادباً اس پر بیٹھنے کی جرأت نہ کی اورخلیفۂ دوم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نشست گاہ پر بھی بیٹھنے کی جرأ ت نہ کی اور خلیفۂ ثالث حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نشست گاہ پر کبھی نہ بیٹھے۔(2) (رواہ الطبرانی عن ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما)