Brailvi Books

سوانحِ کربلا
27 - 188
آیت:7
مَا کَانَ لِاَھلِ الْمَدِیۡنَۃِ وَمَنْ حَوْلَہُمۡ مِّنَ الۡاَعْرَابِ اَنۡ یَّتَخَلَّفُوۡا عَنۡ رَّسُوۡلِ اللہِ وَلَا یَرْغَبُوۡا بِاَنۡفُسِہِمْ عَنۡ نَّفْسِہٖ ؕ
مدینہ والوں اور ان کے گرد دیہات والوں کو لائق نہ تھا کہ رسول اللہ سے پیچھے بیٹھ رہیں اور نہ یہ کہ ان کی جان سے اپنی جان پیاری سمجھیں۔
   ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی محبت آباء و اجداد، انبیاء و اولیاء، اولاد، عزیز، اقارب، دوست، احباب، مال، دولت، مسکن، وطن سب چیزوں کی محبت سے اور خود اپنی جان کی محبت سے زیادہ ضروری و لازم ہے۔ اور اگر ماں باپ یا اولاد اللہ و رسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ رابطۂ عقیدت و محبت نہ رکھتے ہوں تو ان سے دوستی و محبت رکھنا جائز نہیں۔ قرآن پاک میں اس مضمون کی صدہا آیتیں ہیں۔ اب چند حدیثیں پیش کی جاتی ہیں:
حدیث:۱
بخار ی ومسلم نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
  قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔(22)
    حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :تم میں کوئی مومن نہیں ہوتا جب تک میں اُسے اس کے والد اور اولاد اور سب لوگوں سے زیاد ہ پیار ا اور محبوب نہ ہوں۔
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنز الایمان: مدینے والوں اور ان کے گرد دیہات والوں کو لائق نہ تھا کہ رسول اللہ سے پیچھے 

بیٹھ رہیں اور نہ یہ کہ ان کی جان سے اپنی جان پیاری سمجھیں۔ (پ۱۱،التوبۃ:۱۲۰)

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب حب الرسول من الایمان،الحدیث:۱۵، ج۱،ص۱۷
Flag Counter