| سوانحِ کربلا |
قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلٰثٌ مَّنْ کُنَّ فِیْہِ وَجَدَ بِھِنَّ حَلَاوَۃَ اْلاِیْمَانِ مَنْ کَانَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِمَّا سِوَاھُمَا وَمَنْ اَحَبَّ عَبْدًا لَا یُحِبُّہٗ اِلَّا لِلّٰہِ وَمَنْ یَکْرَہُ اَنْ یَّعُوْدَ فِی الْکُفْرِ بَعْدَ اَنْ اَنْقَذَہُ اللہُ مِنْہٗ کَمَا یَکْرَہُ اَنْ یُّلْقٰی فِی النَّارِ(11)(رواہ البخاری ومسلم عن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں جس میں ہوں وہ لذت و شیر ینی ایمان کی پالیتا ہے۔(۱)جس کوا للہ و رسول سارے عالم سے زیادہ پیارے ہوں (۲)اور جو کسی بندے کو خاص اللہ کے لئے محبوب رکھتا ہو(۳)اور جو کفر سے رہائی پانے اور مسلمان ہونے کے بعد کفر میں لوٹنے کو ایسا برا جانتا ہو جیسا اپنے آپ کو آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے نسبت رکھنے والی چیزوں کو محبوب رکھنا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں داخل ہے قدرتی طور پر انسان جس سے محبت رکھتا ہے اس سے نسبت رکھنے والی تمام چیزیں اس کو محبوب ہوجاتی ہیں۔ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے محبت رکھنے والے بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے وطن پاک اور حضور کے وطن پاک کے رہنے والوں اور حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام سے نسبت رکھنے والی ہر چیز کو جان و دل سے محبوب رکھتے ہیں۔1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان خصال...الخ، الحدیث:۶۷، ص۴۱ وصحیح البخاری،کتاب الایمان، باب من کرہ ان یعود فی الکفر...الخ، الحدیث:۲۱،ج۱،ص۱۹