امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بدلے سترہزار شقی مارے جائیں گے۔(1)وہ پور اہوا، دنیا پرستارانِ سیاہ باطن اور مغرورانِ تاریک دروں کیاامیدیں باندھ رہے تھے اورحضرت امام علیٰ جدہ وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی شہادت سے ان دشمنان حق کو کیسی کچھ توقعات تھیں۔ لشکریوں کو گراں قدر انعاموں کے وعدے دئیے گئے تھے، سرداروں کو عہدے اورحکومت کا لالچ دیا گیا تھا، یزید اور ابن زیاد وغیرہ کے دماغوں میں جہانگیر سلطنت کے نقشے کھنچے ہوئے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ فقط امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کاوجود ہمارے لیے عیشِ دنیا سے مانع ہے ، یہ نہ ہوں تو تمام کرۂ زمین پر یزیدیوں کی سلطنت ہوجائے اورہزاروں برس کے لئے ان کی حکومت کاجھنڈا گڑجائے مگر ظلم کے انجام اور قہر الٰہی عزوجل کی تباہ کن بجلیوں اور درد رسید گانِ اہل بیت کی جہاں برہم کُن آہوں کی تاثیرات سے بے خبر تھے۔ انھیں نہیں معلوم تھا کہ خونِ شہداء رنگ لائے گا اور سلطنت کے پرزے اڑجائیں گے، ایک ایک شخص جو قتلِ حضرتِ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں شریک ہواہے طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگا، وہی فرات کا کنارہ ہوگا، وہی عاشورہ کا دن، وہی ظالموں کی قوم ہوگی اور مختار کے گھوڑے انھیں روندتے ہوں گے، ان کی جماعتوں کی کثرت ان کے کام نہ آئے گی، ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں گے، گھرلوٹے جائیں گے، سولیاں دی جائیں گی، لاشیں سڑیں گی،دنیا میں ہر شخص تُف تُف کریگا، اس ہلاکت پر خوشی منائی جائے گی، معرکہ جنگ میں اگرچہ ان کی تعداد ہزاروں کی ہوگی مگر وہ دل چھوڑکر ہیجڑوں کی طرح بھاگیں گے اور چوہوں اور کُتّوں کی طرح انھیں جان بچا نی مشکل ہوگی، جہاں پائے جائیں