گے ماردئیے جائیں گے، دنیا میں قیامت تک ان پر نفرت و ملامت کی جائے گی۔
حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت حمایتِ حق کے لئے ہے اس راہ کی تمام تکلیفیں عزت ہیں اور پھروہ بھی اس شان کے ساتھ کہ اس خاندان عالی کا بچہ بچہ شیر بن کر میدان میں آیا، مقابل سے اس کی نظرنہ جھپکی، دمِ آخر تک مبارزطلب کرتارہا اور جب نامردوں کے ہجوم نے اس کو چاروں طرف سے گھیرلیاتب بھی اُس کے پائے ثبات واِسْتِقْلال کو لغزش نہ ہوئی، اُس نے میدان سے باگ نہ موڑی نہ حق و صداقت کا دامن ہاتھ سے چھوڑا نہ اپنے دعوے سے دست برداری کی، مردانہ جانبازی کا نام دنیا میں زندہ کردیا، حق و صداقت کا ناقابلِ فراموشی درس دیا اور ثابت کردیا کہ فیوضِ نبوت کے پرتَو سے حقا نیت کی تجلیاں اُن پاک باطنوں کے رگ وپے میں ایسی جاگزیں ہوگئی ہیں کہ تیر و تلوار اور تیر و سناں کے ہزارہا گہرے گہرے زخم بھی اُن کو گزند نہیں پہنچا سکتے۔ آخرت کی زندگی کا دلکش منظر اُن کی چشمِ حق بیں کے سامنے اِس طرح روکش ہے کہ آسایشِ حیاتِ دنیوی کووہ بے التفاتی کی ٹھوکروں سے ٹھکرا دیتے ہیں۔
حجاج ابن یوسف کے وقت میں جب دوبارہ حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسیر کئے گئے اور لوہے کی بھاری قید و بند کا بارِگراں ان کے تنِ نازنین پر ڈالا گیا اور پہرہ دارمتعین کردئیے گئے، زہری علیہ الرحمہ اس حالت کو دیکھ کر روپڑے اور کہا کہ مجھے تمنا تھی کہ میں آپ کی جگہ ہوتا کہ آپ پر یہ بارِمصائب دل پرگوارا نہیں ہے۔اس پر امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ
کیاتجھے یہ گمان ہے کہ اس قیدو بند ش سے مجھے کرب و بے چینی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر میں چاہوں تو اس میں سے کچھ بھی نہ رہے مگر اس میں اجر ہے اور تَذَکُّرہے