رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خونِ ناحق نے ابن زیادکو نہ چھوڑا، آج اس نامراد کا سر اس ذلت و رسوائی کے ساتھ یہاں رکھا ہوا ہے، چھ سال ہوئے ہیں وہی تاریخ ہے ،وہی جگہ ہے ،خدواند ِ عالَم نے ا س مغرور، فرعون خصال کو ایسی ذلت و رسوائی کے ساتھ ہلاک کیا، اسی کوفہ اور اسی دار الامارت میں اس بے دین کے قتل وہلاک پر جشن منایا جارہاہے۔ (1)
ترمذی شریف کی صحیح حدیث میں ہے کہ جس وقت ابن زیاد اور اس کے سرداروں کے سر مختار کے سامنے لاکر رکھے گئے توایک بڑاسانپ نمودار ہوا، اس کی ہیبت سے لوگ ڈر گئے وہ تمام سروں پر پھرا جب عبیداللہ ابن زیاد کے سر کے پاس پہنچا اس کے نتھنے میں گھس گیا اور تھوڑی دیر ٹھہر کر اس کے منہ سے نکلا، اس طرح تین بار سانپ اس کے سر کے اندر داخل ہوا اور غائب ہوگیا۔(2)
ابن زیاد، ابن سعد،شمر، قیس ابن اشعث کندی ، خولی ابن یزید، سنان بن انس نخعی، عبداللہ بن قیس ، یزید بن مالک اور باقی تمام اشقیا جو حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل میں شریک تھے اور ساعی تھے طرح طرح کی عقوبتوں سے قتل کیے گئے اور ان کی لاشیں گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کرائی گئیں۔(3)
حدیث شریف میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ ہے کہ خونِ حضرتِ