Brailvi Books

سوانحِ کربلا
182 - 188
پاس لایا گیا۔ مختار نے پہلے اس کے چاروں ہاتھ پیر کٹوائے پھر سولی چڑھایا، آخر آگ میں جھونک دیا۔ اس طرح لشکر ِابن سعد کے تمام اشرار کو طرح طرح کے عذابوں کے ساتھ ہلاک کیا۔ چھ ہزار کوفی جو حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل میں شریک تھے ان کو مختار نے طرح طرح کے عذابوں کے ساتھ ہلاک کردیا۔ (1)
ابن زیاد کی ہلاکت
    عبیداللہ ابن زیاد ، یزید کی طرف سے کوفہ کاوالی (گورنر) کیاگیاتھا۔ اسی بدنہاد کے حکم سے حضرت امام اور آپ کے اہل بیت علیہم الرضوان کو یہ تمام ایذا ئیں پہنچائی گئیں، یہی ابن زیاد موصل میں تیس ہزار فوج کے ساتھ اترا۔ مختار نے ابراہیم بن مالک اشترکو اس کے مقابلہ کیلئے ایک فوج کولے کر بھیجا موصل سے پندرہ کوس کے فاصلہ پر دریائے فرات کے کنارے دونوں لشکروں میں مقابلہ ہوا اور صبح سے شام تک خوب جنگ رہی۔ جب دن ختم ہونے والا تھا اور آفتاب قریب غروب تھا اس وقت ابراہیم کی فوج غالب آئی، ابن زیادکوشکست ہوئی،اس کے ہمراہی بھاگے۔ ابراہیم نے حکم دیا کہ فوجِ مخالف میں سے جو ہاتھ آئے اس کوزندہ نہ چھوڑا جائے۔ چنانچہ بہت سے ہلاک کیے گئے۔ اسی ہنگامہ میں ابن زیاد بھی فرات کے کنارے محرم کی دسویں تاریخ 67ھ؁ میں مارا گیا اور اس کا سر کا ٹ کر ابراہیم کے پاس بھیجا گیا، ابراہیم نے مختار کے پاس کوفہ میں بھجوایا، مختار نے دار الامارت کوفہ کو آ راستہ کیا اوراہل کوفہ کو جمع کرکے ابن زیاد کا سرناپاک اسی جگہ رکھوایا جس جگہ اس مغرورِحکومت و بندۂ دنیانے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سرِ مبارک رکھا تھا۔ مختار نے اہل کوفہ کو خطاب کرکے کہا کہ اے اہل کوفہ! دیکھ لوکہ حضرت امام حسین
1۔۔۔۔۔۔الکامل فی التاریخ، سنۃ ست وستین، ج۴، ص۲۷۔۴۹ملخصاً
Flag Counter