| سوانحِ کربلا |
ہوتاہے۔ مسلمانوں نے مختار کے اس کارنامہ پر اظہار فرح کیا اور اس کودشمنانِ امام سے بدلہ لینے پر مبارکباد دی۔(1) ؎
اے ابن سعد!رے کی حکومت تو کیا ملی ظلم و جفا کی جلد ہی تجھ کو سزا ملی اے شمر نابکار!شہیدوں کے خون کی کیسی سزا تجھے ابھی اے ناسزا ملی اے تشنگانِ خونِ جوانانِ اہلِ بیت دیکھا کہ تم کو ظلم کی کیسی سزا ملی کتوں کی طرح لاشے تمہارے سڑا کئے گُھورے پہ بھی نہ گور کو تمہاری جا ملی رسوائے خلق ہوگئے برباد ہوگئے مردودو! تم کو ذلتِ ہر دو سرا ملی تم نے اُجاڑا حضرتِ زہرا کا بوستاں تم خود اُجڑ گئے تمہیں یہ بد دعا ملی دنیا پرستو!دین سے منہ موڑ کر تمہیں دنیا ملی نہ عیش و طرب کی ہوا ملی آخر دکھایا رنگ شہیدوں کے خون نے سر کٹ گئے اماں نہ تمہیں اک ذرا ملی پائی ہے کیا نعیم انہوں نے ابھی سزا دیکھیں گے وہ جحیم میں جس دم سزا ملی
اس کے بعد مختار نے ایک حکمِ عام دیا کہ کربلا میں جوجو شخص عمر بن سعد کا شریک تھا وہ جہاں پایا جائے مارڈالا جائے۔ یہ حکم سن کر کوفہ کے جفا شعار سورمابصرہ بھاگنا شروع ہوئے، مختار کے لشکر نے ان کا تعاقب کیاجس کو جہاں پایا ختم کردیا، لاشیں جلاڈالیں،گھرلوٹ لیے۔ خولی بن یزیدوہ خبیث ہے جس نے حضرت امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سرِ مبارک تنِ اقدس سے جدا کیا تھا، یہ روسیاہ بھی گرفتار کرکے مختار کے
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء، عبد اللہ بن الزبیر، ص۱۶۹ والکامل فی التاریخ، سنۃ ست وستین، ج۴، ص۲۷۔۴۹ملخصاً