Brailvi Books

سوانحِ کربلا
180 - 188
کسی دوسرے کو کیوں مبتلا کروں۔(1)

    معاویہ بن یزید کے انتقال کے بعد اہل مصر و شام نے بھی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کی پھر مروان بن حکم نے خروج کیا اور اس کو شام و مصر پر قبضہ حاصل ہوا۔ 65ھ؁ میں اس کا انتقال ہوا اور اس کی جگہ اس کا بیٹا عبدالملک اس کا قائم مقام ہوا۔ عبد الملک کے عہد میں مختار بن عبید ثقفی نے عمر بن سعد کو بلایا، ابن سعد کا بیٹا حفص حاضر ہوا۔ مختار نے دریافت کیا:تیراباپ کہاں ہے ؟ کہنے لگا کہ وہ خلوت نشین ہوگیا ہے ،گھر سے باہر نہیں نکلتا۔ اس پر مختار نے کہاکہ اب وہ رے کی حکومت کہاں ہے جس کی چاہت میں فرزند ِرسول رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بے وفائی کی تھی، اب کیوں اس سے دست بردار ہوکر گھرمیں بیٹھا ہے۔ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہادت کے روز کیوں خانہ نشین نہ ہوا۔ اس کے بعد مختار نے ابن سعد اور اس کے بیٹے اور شمرناپاک کی گردن مارنے کا حکم دیا اور ان سب کے سر کٹواکر حضرت محمد بن حنفیہ برادر حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیج دئیے اور شمر کی لاش کو گھوڑوں کے سُمُوں سے روند وادیا جس سے اس کے سینہ اور پسلی کی ہڈیاں چکنا چور ہوگئیں۔ شمر حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قاتلوں میں سے ہے اور ابن سعد اس لشکر کاقافلہ سالاروکماندارتھا جس نے حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر مظالم کے طوفان توڑے آج ان ظالمانِ ستم شعار و مغرور انِ نابکار کے سرتن سے جدا کرکے دشت بدشت پھرائے جارہے ہیں اور دنیا میں کوئی ان کی بیکسی پر افسوس کرنے والا نہیں۔ ہر شخص ملامت کرتاہے اور نظرِ حقارت سے دیکھتا ہے اور ان کی اس ذلت و رسوائی کی موت پرخوش
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الطبری، سنۃ اربع وستین، ذکر خبر وفاۃ یزید بن معاویۃ، خلافۃ معاویۃ بن یزید، 

ج۴، ص۸۷۔۹۰

وتاریخ الخلفاء، یزید بن معاویۃ ابوخالد الاموی، ص۱۶۷۔۱۶۸ملتقطاً
Flag Counter