Brailvi Books

سوانحِ کربلا
176 - 188
یہ شعر لکھا ؎
اَ تَرْجُو اُمَّۃٌ قَتَلَتْ حُسَیْنًا

شَفَاعَۃَ جَدِّہٖ یَوْمَ الْحِسَابِ

(1)
    یہ بھی منقول ہے کہ ایک منزل میں جب اس قافلہ نے قیام کیا وہاں ایک دَیْر تھا۔ دیر کے راہب نے ان لوگوں کو اسّی ہزاردرہم دے کر سرِمبارک کو ایک شب اپنے پاس رکھا۔ غسل دیا، عطر لگایا، ادب و تعظیم کے ساتھ تمام شب زیارت کرتااور روتا رہا اور رحمتِ الٰہی عزوجل کے جوانوار سرِ مبارک پر نازل ہورہے تھے ان کا مشاہدہ کرتارہا حتیٰ کہ یہی اس کے اسلام کا باعث ہو ا۔اشقیا نے جب دراہم تقسیم کرنے کے لیے تھیلیوں کو کھولا تو دیکھا سب میں ٹھیکریاں بھری ہوئیں ہیں اور ان کے ایک طرف لکھا ہے:
   وَلَا تَحْسَبَنَّ اللہَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ ۬ؕ (2)
خدا کو ظالموں کے کردار سے غافل نہ جانو۔

اور دوسری طرف یہ آیت مکتوب ہے:
وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾٪

 (3)
اور ظلم کرنے والے عنقریب جان لیں گے کہ کس کروٹ بیٹھے ہیں(4)

    غرض زمین و آسمان میں ایک ماتم برپاتھا۔ تمام دنیا رنج و غم میں گرفتار تھی، شہادتِ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دن آفتاب کو گرہن لگا، ایسی تاریکی ہوئی کہ دو پہر میں تارے نظر آنے لگے، آسمان رویا، زمین روئی ، ہوا میں جنات نے نوحہ خوانی کی، راہب
1۔۔۔۔۔۔المعجم الکبیر للطبرانی، مسند الحسین بن علی...الخ، الحدیث:۲۸۷۳، ج۳، ص۱۲۳

2۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنز الایمان:اور ہرگزاللہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے۔ (پ۱۳،ابرٰہیم:۴۲)

3۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنز الایمان:اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ (پ۱۹، الشعرآئ:۲۲۷)

4۔۔۔۔۔۔الصواعق المحرقۃ، الباب الحادی عشر فی فضائل اہل البیت...الخ، الفصل الثالث، ص۱۹۹
Flag Counter