Brailvi Books

سوانحِ کربلا
175 - 188
  ابن عساکرنے منہال بن عمرو سے روایت کی وہ کہتے ہیں: واللہ! میں نے بچشمِ خود دیکھا کہ جب سر مبارک امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لوگ نیزے پر لئے جاتے تھے اس وقت میں دمشق میں تھا، سرمبارک کے سامنے ایک شخص سورۂ کہف پڑھ رہا تھا جب وہ اس آیت پر پہنچا:
  اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ  اَصْحٰبَ الْکَہۡفِ وَ الرَّقِیۡمِ  کَانُوۡا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا ﴿۹﴾ (1)
اصحاب کہف و رقیم ہماری نشانیوں میں سے عجب تھے۔
 اس وقت اللہ تعالیٰ نے سرمبارک کو گویائی دی، بزبانِ فصیح فرمایا:
اَعْجَبُ مِنْ اَصْحٰبِ الْکَھْفِ قَتْلِیْ وَحَمْلِیْ۔(2) ''
اصحاب کہف کے واقعہ سے میرا قتل اور میرے سر کولیے پھر نا عجیب تر ہے ۔''اوردر حقیقت بات یہی ہے کیونکہ اصحاب کہف پر کافروں نے ظلم کیا تھا اور حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو انکے جد کی امت نے مہمان بنا کر بلایا، پھر بے وفائی سے پانی تک بند کردیا ،آل و اصحاب کو حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے شہید کیا،پھر خود حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا، اہل بیت علیہم الرضوان کو اسیر کیا، سر مبارک شہر شہر پھرایا۔ اصحاب کہف سالہاسال کی طویل خواب کے بعد بولے، یہ ضرور عجیب ہے مگر سرِ مبارک کا تن سے جدا ہونے کے بعد کلام فرمانا اس سے عجیب تر ہے۔

    ابو نعیم نے بطریق ابن لہیعہ، ابی قبیل سے روایت کی کہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد جب بدنصیب کوفی سرِ مبارک کو لے کر چلے اور پہلی منزل میں ایک پڑاؤ پر بیٹھ کر شربت خرما پینے لگے اس وقت ایک لوہے کا قلم نمودار ہوا اس نے خون سے
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنز الایمان:کہ پہاڑ کی کھوہ اور جنگل کے کنارے والے ہماری ایک عجیب نشانی تھے۔ 

(پ۱۵، الکہف:۹)

2۔۔۔۔۔۔فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، باب حرف الہمزۃ، ج۱، ص۲۶۵
Flag Counter