تک اس حادثہ قیامت نما سے کانپ گئے اور روپڑے۔ فرزندِرسو ل، جگر گوشۂ بتول، سردارِ قریش امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سرِ مبارک ابن زیاد متکبر کے سامنے تشت میں رکھا جائے اور وہ فرعون کی طرح مسند تکبر پر بیٹھے ، اہل بیت علیہم الرضوان اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھیں ، ان کے دلوں کا کیا حال ہوا ہوگا۔ پھر سرمبارک اور تمام شہداء کے سروں کو شہر شہر نیزوں پر پھرایا جائے اور وہ یزید پلید کے سامنے لاکر اسی طرح رکھے جائیں اور وہ خوش ہو، اس کو کون برداشت کرسکتاہے۔ یزید کی رعایا بھی بگڑ گئی اور ان سے یہ نہ دیکھا گیا، اس پر اس نابکارنے اظہارِندامت کیا مگر یہ ندامت اپنی جماعت کو قبضہ میں رکھنے کیلئے تھی، دل تو اس ناپاک کا اہلِ بیت کرام کے عناد سے بھرا ہواتھا۔ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پرظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے اورآپ نے اور آپ کے اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صبر ورضا کا وہ امتحان دیا جو دنیا کو حیرت میں ڈالتاہے۔ راہِ حق میں و ہ مصیبتیں اٹھائیں جن کے تصور سے دل کانپ جاتاہے۔ یہ کمال شہادت و جانبازی ہے اور اس میں امتِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیلئے حق و صداقت پر استقامت و استقلال کی بہترین تعلیم ہے۔(1)