اس کے ماں باپ برترین قریش
اس کے نانا جہان سے بہتر
ابو نعیم نے حبیب بن ثابت سے روایت کی کہ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ میں نے حضورسید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد سے سوائے آج کبھی جنوں کو نوحہ کرتے اور روتے نہ سنا تھا مگر آج سنا تو میں نے جانا کہ میرا فرزند حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہوگیا،میں نے اپنی لونڈی کوباہر بھیج کر خبرمنگائی تو معلوم ہوا کہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہوگئے جن اس نوحہ کے ساتھ زاری کرتے تھے:
اَلَا یَاعَیْنُ فَاحْتَفَلِیْ بِجُھْدٍ
ہوسکے جتنا رولے تو اے چشم!
وَمَنْ یَبْکِیْ عَلَی الشُّھَدَاءِ بَعْدِیْ
کون روئے گا پھر شہیدوں کو
عَلٰی رَھْطٍ تَقُوْدُھُمُ الْمَنَایَا
پاس ظالم کے کھینچ کر لائی
اِلٰی مُتَجَبْرٍ فِیْ مَلْکِ عَھْدِیْ (3)
1۔۔۔۔۔۔الصواعق المحرقۃ، الباب الحادی عشر فی فضائل اہل البیت...الخ، الفصل الثالث، ص۱۹۴
2۔۔۔۔۔۔معرفۃ الصحابۃ، باب الحائ، ۵۶۱۔من اسمہ ابو عبد اللہ الحسین بن علی ...الخ ،
الحدیث:۱۸۰۳، ج۲، ص۱۳
3۔۔۔۔۔۔مجمع الزوائد، کتاب المناقب، باب مناقب الحسین بن علی، الحدیث:۱۵۱۸۱،
ج۹، ص۳۲۱