جب خبر ا ۤئی تو معلوم ہوا کہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی وقت شہید کیے گئے۔(1)
حاکم نے بیہقی میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک حدیث روایت کی۔ انہوں نے بھی اسی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیمات کو خواب میں دیکھاکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سرِمبارک و ریشِ اقدس پر گَرْدو غُبار ہے، عرض کیا :جان ماکنیزان نثار تو باد۔ یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلمیہ کیا حال ہے؟ فرمایا: ابھی امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقتل میں گیا تھا۔(2)
بیہقی وابو نعیم نے بصر ہ ازدیہ سے روایت کی کہ جب حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید کیے گئے تو آسمان سے خون برسا۔ صبح کو ہمارے مٹکے، گھڑے اور تمام برتن خون سے بھرے ہوئے تھے۔(3)
بیہقی وابو نعیم نے زہری سے روایت کی کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس روز شہید کئے گئے اس روز بیت المقدس میں جو پتھر اٹھا یا جاتا تھا اس کے نیچے تازہ خون پایا جاتا تھا۔(4)