زیاد بد نہاد نے سرِ مبارک کو کوفہ کے کو چہ و بازار میں پھر وایا اور اس طرح اپنی بے حمیتی وبے حیائی کا اظہار کیا پھر حضرت سید الشہداء اور ان کے تمام جانباز شہدا علیہم الرضوان کے سروں کو اسیرانِ اہلِ بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ شمر ناپاک کی ہمراہی میں یزید کے پاس دمشق بھیجا، یزید نے سرِ مبارک اور اہلِ بیت کو حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مدینہ طیبہ بھیجا اوروہاں حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سرمبارک آپ کی والدہ ماجدہ حضرت خاتونِ جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا یا حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں مدفون ہوا۔(1)
اس واقعۂ ہائلہ سے حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو جورنج پہنچا اور قلب مبارک کو جو صدمہ ہو ااندازہ اور قیاس سے باہر ہے۔ امام احمدو بیہقی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت کی ایک روز میں دو پہر کے وقت حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ و التسلیمات کی زیارت سے خواب میں مشرف ہوا۔ میں نے دیکھا کہ سنبل معنبروگیسوئے معطر بکھرے ہوئے اور غبار آلودہیں، دست مبارک میں ایک خون بھرا شیشہ ہے۔ یہ حال دیکھ کر دل بے چین ہوگیا، میں نے عرض کیا :اے آقا! قربانت شوم یہ کیا حال ہے؟ فرمایا حسین اور ان کے رفیقوں علیہم الرضوان کا خون ہے، میں اسے آج صبح سے اٹھاتا رہا ہوں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:میں نے اس تاریخ و وقت کو یاد رکھا