Brailvi Books

سوانحِ کربلا
170 - 188
ظالمانِ بدکیش نے اسی پر اکتفا نہیں کیا اورحضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مصیبتوں کا اسی پر خاتمہ نہیں ہوگیا۔ دشمنا نِ ایمان نے سرِمبارک کوتنِ اقدس سے جدا کرنا چاہا اور نضرابن خرشہ اس ناپاک ارادہ سے آگے بڑھا مگر امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہیبت سے اس کے ہاتھ کانپ گئے اور تلوار چھوٹ پڑی۔ خولی ابن یزید پلید نے یاشبل ابن یزید نے بڑھ کر آپ کے سرِ اقدس کو تنِ مبارک سے جدا کیا۔ (1)

ٍ    صادق جانباز نے عہدِ وفا پورا کیااور دین حق پر قائم رہ کر اپنا کنبہ ، اپنی جان راہِ خدا میں اس اولوالعزمی سے نذر کی، سوکھا گلا کاٹا گیا اور کربلا کی زمین سید ا لشہداء کے خون سے گلزار بنی، سروتن کو خاک میں ملا کر اپنے جد کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دین کی حقانیت کی عملی شہادت دی اور ریگستانِ کوفہ کے ورق پر صدق و امانت پر جان قربان کرنے کے نقوش ثبت فرمائے۔
اَعْلَی اللہُ تَعَالٰی مَکَانَہٗ وَاَسْکَنَہٗ بُحْبُوْحَۃَ جِنَانِہٖ وَاَمْطَرَ عَلَیْہِ شَاٰبِیْبَ رَحْمَتِہٖ وَرِضْوَانِہٖ
   کربلا کے بیابان میں ظلم و جفا کی آندھی چلی، مصطفائی چمن کے غنچہ و گل باد سموم کی نظر ہوگئے، خاتون جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لہلہاتا باغ دوپہر میں کاٹ ڈالاگیا، کونین کے متاع بے دینی و بے حمیتی کے سیلاب سے غارت ہوگئے، فرزندانِ آلِ رسول کے سر سے سردار کا سایہ اٹھا،بچے اس غریبُ الوطنی میں یتیم ہوئے، بیبیاں بیوہ ہوئیں، مظلوم بچے اور بے کس بیبیاں گرفتار کئے گئے۔

     محرم1 6ھ؁ کی دسویں تاریخ جمعہ کے روز 56سال 5ماہ 5دن کی عمر میں حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس دارناپائیدار سے رحلت فرمائی اور داعی اجل کو لبیک کہی۔ ابن
1۔۔۔۔۔۔روضۃ الشہداء (مترجم) ، باب نہم، ج۲، ص۳۴۷۔۳۵۶ ملخصاً
Flag Counter