ظالمانِ بدکیش نے اسی پر اکتفا نہیں کیا اورحضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مصیبتوں کا اسی پر خاتمہ نہیں ہوگیا۔ دشمنا نِ ایمان نے سرِمبارک کوتنِ اقدس سے جدا کرنا چاہا اور نضرابن خرشہ اس ناپاک ارادہ سے آگے بڑھا مگر امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہیبت سے اس کے ہاتھ کانپ گئے اور تلوار چھوٹ پڑی۔ خولی ابن یزید پلید نے یاشبل ابن یزید نے بڑھ کر آپ کے سرِ اقدس کو تنِ مبارک سے جدا کیا۔ (1)
ٍ صادق جانباز نے عہدِ وفا پورا کیااور دین حق پر قائم رہ کر اپنا کنبہ ، اپنی جان راہِ خدا میں اس اولوالعزمی سے نذر کی، سوکھا گلا کاٹا گیا اور کربلا کی زمین سید ا لشہداء کے خون سے گلزار بنی، سروتن کو خاک میں ملا کر اپنے جد کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دین کی حقانیت کی عملی شہادت دی اور ریگستانِ کوفہ کے ورق پر صدق و امانت پر جان قربان کرنے کے نقوش ثبت فرمائے۔