دشمنوں کا سر اس طرح اڑا رہے ہیں جس طرح بادِ خزاں کے جھونکے درختوں سے پتے گراتے ہیں۔ابن سعد اور اس کے مشیروں کو بہت تشویش ہوئی کہ اکیلے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابل ہزاروں کی جماعتیں ہیچ ہیں۔کوفیوں کی عزت خاک میں مل گئی، تمام نامورانِ کوفہ کی جماعتیں ایک حجازی جوان کے ہاتھ سے جان نہ بچاسکیں۔ تاریخِ عالَم میں ہماری نامردی کا یہ واقعہ اہل کوفہ کو ہمیشہ رسوائے عالَم کرتارہے گا، کوئی تدبیر کرنا چاہیے۔ تجویز یہ ہوئی کہ دست بدست جنگ میں ہماری ساری فوج بھی اس شیرِ حق سے مقابلہ نہیں کرسکتی، بجز اس کے کوئی صورت نہیں ہے کہ ہر چہار طرف سے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تیروں کا مینہ برسایا جائے اور جب خوب زخمی ہوچکیں تو نیزوں کے حملوں سے تن نازنین کو مجروح کیاجائے۔ تیراندازوں کی جماعتیں ہر طرف سے گھر آئیں اور امامِ تشنہ کام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گردابِ بلامیں گھیر کر تیر برسانے شروع کر دئیے، گھوڑا اِس قدر زخمی ہوگیا کہ اس میں کام کرنے کی قوت نہ رہی ناچار حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک جگہ ٹھہرنا پڑا، ہرطرف سے تیرآرہے ہیں اور امام مظلو م کا تنِ ناز پرورنشانہ بناہوا ہے، نورانی جسم زخموں سے چکنا چور اور لہولہان ہورہاہے،بے شرم کوفیوں نے سنگدلی سے محترم مہمان کے ساتھ یہ سلوک کیا۔ ایک تیر پیشانی اقدس پر لگایہ پیشانی مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بوسہ گاہ تھی، یہ سیمائے نور حبیب خداعزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے آرزومندانِ جمال کا قرارِ دل ہے۔ بے ادبانِ کوفہ نے اس پیشانیٔ مُصَفّا اور اس جبینِ پُر ضِیا کو تیر سے گھائل کیا، حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چکرآگیا اور گھوڑے سے نیچے آئے اب نامردانِ سیاہ باطن نے نیزوں پر رکھ لیا، نورانی پیکر خون میں نہا گیا اور آپ شہید ہوکر زمین پر گر پڑے۔