Brailvi Books

سوانحِ کربلا
168 - 188
تعالیٰ عنہ کے سوااب اور توکوئی باقی ہی نہ رہا، کہاں تک نہ تھکیں گے۔ پیاس کی حالت، دھوپ کی تپش مضمحل کرچکی ہے، بہادری کے جوہر دکھانے کا وقت ہے۔ جہاں تک ہو ایک ایک مقابل کیا جائے ،کوئی تو کامیاب ہوگا اس طرح نئے نئے دم بدم شیر صولت، پیل پیکر تیغ زن حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابل آتے رہے مگر جو سامنے آیا ایک ہی ہاتھ میں اس کا قصہ تمام فرمایا۔ کسی کے سر پر تلوار ماری تو زین تک کاٹ ڈالی، کسی کے حمائلی ہاتھ مارا تو قلمی تراش دیا، خودو مِغْفَر کاٹ ڈالے، جوشن و آئینے قطع کردئیے، کسی کو نیزہ پر اٹھایا اور زمین پرپٹک دیا، کسی کے سینے میں نیزہ مارا اور پار نکال دیا۔ 

    زمینِ کربلا میں بہادر انِ کوفہ کا کھیت بودیا، نامورانِ صف شِکَن کے خونوں سے کربلا کے تشنہ ریگستان کو سیراب فرمادیا،نعشوں کے انبار لگ گئے، بڑے بڑے فخرِ روزگار بہادر کام آگئے، لشکر اعداء میں شور برپا ہوگیا کہ جنگ کا یہ انداز رہا تو حیدر کا شیر کوفہ کے زن و اطفال کو بیوہ ویتیم بناکر چھوڑ ے گا اور اس کی تیغ بے پناہ سے کوئی بہادر جان بچا کرنہ لیجا سکے گا، موقع مت دو اور چاروں طرف سے گھیر کر یکبار گی حملہ کرو۔ فرومائیگان روباہ سیرت حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابلہ سے عاجز آئے اور یہی صورت اختیار کی اور ماہِ چرخِ حقانیت پر جوروجفا کی تاریک گھٹا چھاگئی اور ہزاروں جوان دوڑ پڑے اور حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گھیر لیا اور تلوار برسانی شروع کی اور حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہادری کی ستایش ہورہی تھی اور آپ خونخواروں کے اَنْبوہ میں اپنی تیغِ آبدار کے جوہر دکھارہے تھے۔ جس طرف گھوڑا بڑھادیا پَرّے کے پَرّے کاٹ ڈالے۔ دشمن ہیبت زدہ ہوگئے اور حیرت میں آگئے کہ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حملہ جانسِتان سے رہائی کی کوئی صورت نہیں۔ ہزاروں آدمیوں میں گھرے ہوئے ہیں اور