بہادری کی ڈینگیں مارتاہے، غرورو قوت میں سرشار ہے، کثرتِ لشکر اور تنہائی امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر نازاں ہے، آتے ہی حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف تلوار کھینچتا ہے، ابھی ہاتھ اٹھاہی تھا کہ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ضرب فرمائی، سر کٹ کر دو ر جا پڑا اور غرورِ شجاعت خاک میں مل گیا۔ دوسرا بڑھااو ر چاہا کہ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابلہ میں ہنر مندی کا اظہار کرکے سیاہ دلوں کی جماعت میں سرخروئی حاصل کرے ایک نعرہ مارا اور پکار کر کہنے لگاکہ بہادرانِ کوہ شکن شام و عراق میں میری بہادری کا غُلْغُلَہ ہے اور مصرو روم میں، میں شہرۂ آفاق ہوں، دنیا بھر کے بہادر میرا لوہا مانتے ہیں، آج تم میرے زورو قوت کو اور داؤ پیچ کو دیکھو۔ ابن سعد کے لشکری اس متکبرِ سرکش کی تَعَلِّیوں سے بہت خوش ہوئے اور سب دیکھنے لگے کہ کس طرح امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مقابلہ کریگا۔ لشکریوں کو یقین تھا کہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بھوک پیاس کی تکلیف حد سے گزر چکی ہے، صدموں نے ضعیف کردیاہے ایسے وقت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر غالب آجاناکچھ مشکل نہیں ہے۔ جب سپاہِ شام کا گستاخ جفا جو، سرکَشانہ گھوڑا کوداتا سامنے آیا،حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :تو مجھے جانتا نہیں جو میرے مقابل اس دلیری سے آتاہے، ہوش میں ہو، اس طرح ایک ایک مقابل آیا تو تیغِ خون آشام سے سب کا کام تمام کردیا جائے گا، حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بے کس و کمزور دیکھ کر حوصلہ مندیوں کا اظہار کررہے ہو، نامردو! میری نظر میں تمہاری کوئی حقیقت نہیں۔
شامی جوان یہ سن کر اور طیش میں آیااور بجائے جواب کے حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تلوار کا وار کیا، حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا وار بچا کر کمر پر تلوار ماری،معلوم ہوتا تھا کھیرا تھاکاٹ ڈالا۔ اہل شام کو اب یہ اطمینان تھا کہ حضرت رضی اللہ