Brailvi Books

سوانحِ کربلا
166 - 188
رذیل کچھ متأثر نہ ہوئے بلکہ یہ دیکھ کر کہ لشکریوں پر حضرت اما م رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقریر کا کچھ اثر معلوم ہوتا ہے، کہنے لگے کہ آپ قصہ کو تاہ کیجئے اور ابن زیاد کے پاس چل کر یزید کی بیعت کرلیجئے تو کوئی آپ سے تعارض نہ کریگا ورنہ بجز جنگ کے کوئی چارہ نہیں ہے۔ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو انجام معلوم تھا لیکن یہ تقریر اِقامَتِ حُجَّت کیلئے فرمائی تھی کہ انھیں کوئی عذر باقی نہ رہے۔

    سید انبیا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا نورِ نظر ، خاتو نِ جنت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا لختِ جگر بے کسی بھوک پیاس کی حالت میں آل واصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مُفارَقَت کا زخم دل پر لئے ہوئے گرم ریگستان میں بیس ہزار کے لشکر کے سامنے تشریف فرماہے، تمام حجتیں قطع کردی گئیں، اپنے فضائل اور اپنی بے گناہی سے اعداء کو ا چھی طرح آگاہ کردیا اور بار بار بتادیا ہے کہ میں بقصدِجنگ نہیں آیا اور اس وقت تک ارادۂ جنگ نہیں ہے اب بھی موقع دو تو واپس چلا جاؤں۔ مگر بیس ہزار کی تعداد امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بے کس و تنہا دیکھ کر جوشِ بہادری دکھانا چاہتی ہے۔(1)

    جب حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اطمینان فرمایاکہ سیاہ دلانِ بدباطن کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہا اور وہ کسی طرح خونِ ناحق و ظلمِ بے نہایت سے باز آنے والے نہیں تو امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم جو ارادہ رکھتے ہو پورا کرو اور جس کو میرے مقابلہ کے لئے بھیجنا چاہتے ہو بھیجو۔ مشہور بہادر اور یگانہ نبرد آزماجن کو سخت وقت کیلئے محفوظ رکھا گیا تھا میدان میں بھیجے گئے۔ ایک بے حیا ابنِ زہراکے مقابل تلوار چمکاتا آتا ہے، امامِ تشنہ کام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوآبِ تیغ دکھاتاہے، پیشوائے دین کے سامنے اپنی
1۔۔۔۔۔۔روضۃ الشہداء (مترجم) ، باب نہم، ج۲، ص۳۴۴۔۳۴۵ ملخصاً
Flag Counter