Brailvi Books

سوانحِ کربلا
165 - 188
و اختیار میں ہے۔ اگر تم خداوند ِعالَم جل جلالہ پر یقین رکھتے اور میرے جدّ حضرت سیدانبیا محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے ہوتو ڈرو کہ قیامت کے دن میزانِ عدل قائم ہوگی، اعمال کاحساب کیاجائے گا، میرے والدین محشر میں اپنی آل کے بے گناہ خونوں کامطالبہ کریں گے۔ حضور سید انبیاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جن کی شفاعت گنہگاروں کی مغفرت کا ذریعہ ہے اور تمام مسلمان جن کی شفاعت کے امید وار ہیں وہ تم سے میرے اور میرے جاں نثاروں کے خونِ ناحق کا بدلہ چاہیں گے، تم میرے اہل و عیال، اعزہ واطفال ،اصحاب و موالی میں سے سَتَّر سے زیادہ کو شہید کرچکے اور اب میرے قتل کا ارادہ رکھتے ہو، خبردار ہوجاؤ کہ عیشِ دنیا میں پائیداری و قیام نہیں، اگر سلطنت کی طمع میں میرے درپئے آزار ہو تو مجھے موقع دو کہ میں عرب چھوڑ کر دنیا کے کسی اور حصہ میں چلا جاؤں۔ اگر یہ کچھ منظورنہ ہو اور اپنی حرکات سے باز نہ آؤ تو ہم اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مرضی پر صابر و شاکر ہیں۔
اَلْحُکْمُ لِلّٰہِ وَرَضِیْنَا بِقَضَاءِ اللہِ۔'' (1)
    حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبانِ گوہر فِشاں سے یہ کلمات سن کر کوفیوں میں سے بہت لوگ روپڑے، دل سب کے جانتے تھے کہ وہ برسرِ ظلم وجفاہیں اور حمایتِ باطل کے لئے انہوں نے دارین کی روسیاہی اختیار کی ہے اور یہ بھی سب کو یقین تھا کہ امام مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حق پر ہیں۔ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف ایک ایک جنبش دشمنانِ حق کے لئے آخرت کی رسوائی و خواری کا مُوجِب ہے اس لئے بہت سے لوگوں پر اثر ہوا اور ظالمانِ بد باطن نے بھی ایک لمحہ کیلئے اس سے اثر لیا، ان کے بدنوں پر ایک پُھرَ ْیری سی آگئی اور ان کے دلوں پر ایک بجلی سی چمک گئی، لیکن شمر وغیرہ بد سیرت و پلید طبیعت 

رذیل کچھ متأثر نہ ہوئے بلکہ یہ دیکھ کر کہ لشکریوں پر حضرت اما م رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی
1۔۔۔۔۔۔روضۃ الشہداء (مترجم) ، باب نہم، ج۲، ص۳۴۱۔۳۴۴ ملخصاً
Flag Counter