و اختیار میں ہے۔ اگر تم خداوند ِعالَم جل جلالہ پر یقین رکھتے اور میرے جدّ حضرت سیدانبیا محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے ہوتو ڈرو کہ قیامت کے دن میزانِ عدل قائم ہوگی، اعمال کاحساب کیاجائے گا، میرے والدین محشر میں اپنی آل کے بے گناہ خونوں کامطالبہ کریں گے۔ حضور سید انبیاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جن کی شفاعت گنہگاروں کی مغفرت کا ذریعہ ہے اور تمام مسلمان جن کی شفاعت کے امید وار ہیں وہ تم سے میرے اور میرے جاں نثاروں کے خونِ ناحق کا بدلہ چاہیں گے، تم میرے اہل و عیال، اعزہ واطفال ،اصحاب و موالی میں سے سَتَّر سے زیادہ کو شہید کرچکے اور اب میرے قتل کا ارادہ رکھتے ہو، خبردار ہوجاؤ کہ عیشِ دنیا میں پائیداری و قیام نہیں، اگر سلطنت کی طمع میں میرے درپئے آزار ہو تو مجھے موقع دو کہ میں عرب چھوڑ کر دنیا کے کسی اور حصہ میں چلا جاؤں۔ اگر یہ کچھ منظورنہ ہو اور اپنی حرکات سے باز نہ آؤ تو ہم اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مرضی پر صابر و شاکر ہیں۔