Brailvi Books

سوانحِ کربلا
164 - 188
و کرم کے سایۂ گُسْتَر کو رخصت کررہاہے۔ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اہل بیت کو تلقین صبر فرمائی۔ رضائے الٰہی عزوجل پر صابر و شاکر رہنے کی ہدایت کی اور سب کو سپردِ خدا عزوجل کرکے میدان کی طرف رخ کیا، اب نہ قاسم ہیں نہ ابوبکر وعمرنہ عثمان وعون نہ جعفر و عباس علیہم الرضوان جوحضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو میدان جانے سے روکیں اوراپنی جانوں کو امام رضی اللہ تعالیٰ عنہپر فداکریں۔ علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آرام کی نیند سوگئے جو حصولِ شہادت کی تمنا میں بے چین تھے۔ تنہا امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں اور آپ ہی کو اعدا کے مقابل جاناہے۔

    خیمہ سے چلے اور میدان میں پہنچے، حق و صداقت کا روشن آفتاب سرزمینِ شام میں طالِع ہوا، امیدِ زندگانی و تمنائے زیست کا گردو غبار اس کے جلوے کو چھپانہ سکا، حُبِّ دنیا و آسایشِ حیات کی رات کے سیاہ پردے آفتابِ حق کی تجلیوں سے چاک چاک ہو گئے، باطل کی تاریکی اس کی نورانی شعاعوں سے کافور ہوگئی، مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرزند راہِ حق میں گھر لٹاکر، کنبہ کٹا کرسر بکف موجود ہے۔ ہزار ہا سپہ گرانِ نبرد آزما کا لشکرِ گراں سامنے موجود ہے اور اس کی پیشانیٔ مُصَفّاپر شکن بھی نہیں، دشمن کی فوجیں پہاڑوں کی طرح گھیرے ہوئے ہیں اور امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نظر میں پَرِکاہ کے برابر بھی ان کا وزن نہیں۔ آپ نے ایک رَجْز پڑھی جو آپ کے ذاتی و نسبی فضائل پرمشتمل تھی اور اس میں شامیوں کورسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ناخوشی و ناراضگی اور ظلم کے انجام سے ڈرایا گیاتھا۔

اس کے بعد آپ نے ایک خطبہ فرمایا اور اس میں حمدوصلوٰۃ کے بعد فرمایا:'' اے قوم !خداعزوجل سے ڈرو، جو سب کا مالک ہے جان دینا، جان لینا سب اس کے قدرت