Brailvi Books

سوانحِ کربلا
163 - 188
تجلیات کی زیارت کریں گے۔ اے نورِ نظر! لختِ جگر ! یہ تمام کام تمہارے ذمہ کئے جاتے ہیں، میرے بعد تم ہی میرے جانشین ہوگے، تمھیں میدان جانے کی اجازت نہیں ہے۔

    حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ میرے بھائی تو جاں نثاری کی سعادت پاچکے اورحضور کے سامنے ہی ساقی کوثر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے آغوشِ رحمت و کرم میں پہنچے، میں تڑپ رہاہوں۔ مگر حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کچھ پذیرانہ فرمایا اور امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان تمام ذمہ داریوں کا حامل کیا اورخود جنگ کے لئے تیار ہوئے، قبائے مصری پہنی اور عمامۂ رسولِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سر پر باندھا، سید الشہدا امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سپر پشت پر رکھی،حضرت حیدر ِکَرَّار کی ذوالفقارِ آبدار حمائل کی۔ اہلِ خیمہ نے اس منظر کو کس آنکھوں سے دیکھاہوگا، امام میدان جانے کیلئے گھوڑے پر سوار ہوئے۔ اس وقت اہل بیت کی بے کسی انتہا کو پہنچتی ہے اور اُن کا سردار اُن سے طویل عرصہ کیلئے جدا ہوتا ہے، ناز پروردوں کے سروں سے شفقت پدری کا سایہ اٹھنے والاہے، نونہالانِ اہل بیت علیہم الرضوان کے گِرد یتیمی منڈلائی پھررہی ہے، ازواج سے سہاگ رخصت ہورہاہے، دکھے ہوئے اور مجروح دل امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جدائی سے کٹ رہے ہیں،بیکس قافلہ حسرت کی نگاہوں سے امام کے چہرۂ د ل افروز پر نظر کررہا ہے، سکینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ترسی ہوئی آنکھیں پدرِ بزرگوار کا آخری دیدار کررہی ہیں، آن دو آن میں یہ جلوے ہمیشہ کیلئے رخصت ہونے والے ہیں، اہل خیمہ کے چہروں سے رنگ اڑگئے ہیں، حسرت ویاس کی تصویریں ساکت کھڑی ہوئی ہیں، نہ کسی کے بدن میں جنبش ہے نہ کسی کی زبان میں تابِ حرکت نورانی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے ہیں اورخاندانِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بے وطنی اور بے کسی میں اپنے سروں سے رحمت