Brailvi Books

سوانحِ کربلا
162 - 188
حضرتِ امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت
    اب وہ وقت آیا کہ جاں نثار ایک ایک کرکے رخصت ہوچکے اور حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر جانیں قربان کرگئے،اب تنہا حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں اورایک فرزند حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ بھی بیمارو ضعیف۔ باوجود اس ضعف و ناطاقتی کے خیمہ سے باہر آئے اورحضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تنہا دیکھ کر مصافِ کا رزار جانے اور اپنی جان نثار کرنے کیلئے نیزہ دست مبارک میں لیا لیکن بیماری، سفر کی کوفت، بھوک پیاس، متواتر فاقوں اور پانی کی تکلیفوں سے ضعف اس درجہ ترقی کرگیا تھا کہ کھڑے ہونے سے بدن مبارک لرزتا تھاباوجود اس کے ہمت مردانہ کایہ حال تھا کہ میدان کا عزم کردیا۔

    حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:جانِ پدر! لوٹ آؤ ، میدان جانے کا قصد نہ کرو،میں کنبہ قبیلہ، عزیز و اقارب ، خدا م، موالی جو ہمراہ تھے راہِ حق میں نثار کرچکا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ِکہ ان مصائب کو اپنے جد کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صدقہ میں صبرو تحمل کے ساتھ برداشت کیا اب اپنا ناچیز ہدیۂ سَرراہ ِخداعزوجل میں نذر کرنے کیلئے حاضر ہے۔ تمہاری ذات کے ساتھ بہت امیدیں وابستہ ہیں، بے کسانِ اہلِ بیت علیہم الرضوان کو وطن تک کون پہنچائے گا، بیبیوں کی نگہداشت کون کریگا، جَدّو پِدَر کی جو امانتیں میرے پاس ہیں کس کو سپردکی جائیں گی، قرآن کریم کی محافظت اور حقائق عرفانیہ کی تبلیغ کا فرض کس کے سر پر رکھاجائے گا، میری نسل کس سے چلی گی، حسینی سیدوں علیہم الرضوان کا سلسلہ کس سے جاری ہوگا، یہ سب تو قعات تمہاری ذات سے وابستہ ہیں۔ دودمانِ رسالت و نبوت کے آخری چراغ تم ہی ہو، تمہاری ہی طلعت سے دنیا مُسْتَنِیْر ہوگی۔مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے دلدادگانِ حسن تمہارے ہی روئے تاباں سے حبیب حق کے انوار و
Flag Counter