Brailvi Books

سوانحِ کربلا
161 - 188
اب اگر آتش بغض و عناد جوش پر ہے تو اس کے لئے میں ہوں۔ یہ شیر خواربچہ پیاس سے دم توڑ رہا ہے اس کی بے تابی دیکھو اور کچھ شائبہ بھی رحم کا ہوتو اس کا حلق تر کرنے کو ایک گھونٹ پانی دو۔

     جفا کار انِ سنگدل پر اس کا کچھ اثر نہ ہوا اور ان کو ذرا رحم نہ آیا۔ بجائے پانی کے ایک بدبخت نے تیر مارا جو علی اصغررضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حلق چھیدتا ہوا امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باز و میں بیٹھ گیا۔ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ تیر کھینچا، بچہ نے تڑپ کر جان دی، باپ کی گود سے ایک نور کا پتلا لپٹا ہواہے، خون میں نہارہاہے،   ا ہل خیمہ کو گمان ہے کہ سیاہ دلانِ بے رحم اس بچہ کو ضرور پانی دے دیں گے اوراس کی تشنگی دلوں پر ضرور اثر کرے گی لیکن جب امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس شگوفۂ تمنا کوخیمہ میں لائے اور اس کی والدہ نے اول نظر میں دیکھا کہ بچہ میں بے تابانہ حرکتیں نہیں ہیں، سکون کا عالم ہے، نہ وہ اضطراب ہے نہ بے قراری ، گمان ہواکہ پانی دے دیا ہوگا۔ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا، فرمایا: وہ بھی ساقی کوثر کے جامِ رحمت و کرم سے سیراب ہونے کے لیے اپنے بھائیوں سے جا ملا، اللہ تعالیٰ نے ہماری یہ چھوٹی قربانی بھی قبول فرمائی۔(1)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلیٰ اِحْسَانِہٖ وَنَوَالِہٖ۔
    رضا و تسلیم کی امتحان گاہ میں امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے متوسلین نے وہ ثابت قدمی دکھائی کہ عالمِ ملائکہ بھی حیرت میں آگیا ہوگا
قَالَ اِنِّیۡۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۳۰﴾(2)
کارازان پر منکشف ہوگیا ہوگا۔
1۔۔۔۔۔۔روضۃ الشہداء (مترجم) ، باب نہم، ج۲، ص۳۳۸
Flag Counter