واقارب، دوست واحباب، خادم ، موالی ، دلبند، جگرپیوند سب آئین وفااداکرکے دوپہر میں شربت شہادت نوش کرچکے ہیں۔ اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قافلہ میں سناٹا ہوگیا ہے۔ جن کا کلمہ کلمہ تسکینِ دل و راحتِ جان تھا وہ نور کی تصویریں خاک و خون میں خاموش پڑی ہوئی ہیں۔ آل رسول نے رضاو صبر کا وہ امتحان دیا جس نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیاہے۔ بڑے سے لے کر بچے تک مبتلائے مصیبت تھے۔
حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے فرزند علی اصغررضی اللہ تعالیٰ عنہ جوا بھی کمسن ہیں، شیرخوار ہیں، پیاس سے بیتاب ہیں،شدتِ تشنگی سے تڑپ رہے ہیں، ماں کا دودھ خشک ہوگیا ہے،پانی کا نام و نشان تک نہیں ہے، اس چھوٹے بچے کی خشک ننھی زبان باہر آتی ہے، بے چینی میں ہاتھ پاؤں مارتے ہیں اور پیچ کھا کھا کر رہ جاتے ہیں، کبھی ماں کی طرف دیکھتے ہیں اور ان کو سوکھی زبان دکھلاتے ہیں۔ نادان بچہ کیا جانتا ہے کہ ظالموں نے پانی بند کردیاہے۔ ماں کا دل اس بے چینی سے پاش پاش ہوا جاتاہے کبھی بچہ باپ کی طرف اشارہ کرتا ہے وہ جانتاتھاکہ ہر چیز یہ لاکردیا کرتے تھے۔ میری اس بے کسی کے وقت بھی پانی بہم پہنچائیں گے ، چھوٹے بچے کی بے تابی دیکھی نہ گئی۔ والدہ نے حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا: اس ننھی سی جان کی بے تابی دیکھی نہیں جاتی اس کو گود میں لے جائیے اور اس کا حال ظالمانِ سنگدل کو دکھائیے اس پر تورحم آئے گا۔ اس کو تو چند قطرے دے دیں گے۔ یہ نہ جنگ کرنے کے لائق ہے نہ میدا ن کے لائق ہے۔ اس سے کیا عداوت ہے۔
حضرت اما م رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس چھوٹے نورِ نظر کو سینہ سے لگاکر سپاہ ِدشمن کے سامنے پہنچے اور فرمایا کہ اپنا تمام کنبہ تو تمہاری بے رحمی اور جوروجفا کے نذر کرچکااور