Brailvi Books

سوانحِ کربلا
159 - 188
ہے نہ زبان بیان کرسکتی ہے۔'' یہ سن کرحضرت علی اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خوشی ہوئی اور وہ پھر میدان کی طرف لوٹ گئے اور لشکر دشمن کے یمین ویسیار پر حملہ کرنے لگے، اس مرتبہ لشکر ِاشرار نے یکبارگی چاروں طرف سے گھیر کر حملے کرنا شروع کردئیے۔ آپ بھی حملہ فرماتے رہے اور دشمن ہلاک ہوہوکر خاک وخون میں لوٹتے رہے لیکن چاروں طرف سے نیزوں کے زخموں نے تن نازنین کو چکنا چور کردیا تھا اور چمنِ فاطمہ کا گلِ رنگیں اپنے خون میں نہا گیاتھا، پیہم تیغ وسنان کی ضربیں پڑرہی تھیں اور فاطمی شہسوار پر تیر و تلوار کا مینہ برس رہاتھا، اس حالت میں آپ پشت زین سے روئے زمین پر آئے اور سروقامت نے خاکِ کربلا پر استراحت کی۔ اس وقت آپ نے آواز دی:
یَا اَبَتَاہْ!اَدْ رِکْنِیْ
اے پدرِبزرگوار!مجھ کو لیجئے۔ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھوڑا بڑھا کر میدان میں پہنچے اور جانباز نونہال کوخیمہ میں لائے، اس کا سرگود میں لیا، حضرت علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنکھ کھولی اور اپناسروالد کی گود میں دیکھ کر فرمایا:''جان ما نیاز مندان قربان توباد۔'' اے پدر بزرگوار! میں دیکھ رہا ہوں آسمان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں بہشتی حوریں شربت کے جام لئے انتظار کررہی ہیں ۔یہ کہا ا ور جان ، جان آفریں کے سپرد کی۔(1)
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
    اہل بیت کا صبرو تحمل اللہ اکبر! امید کے گل نوشگفتہ کو کمھلایا ہوا دیکھا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ِکہا،ناز کے پالوں کو قربان کردیااور شکر الٰہی عزوجل بجالائے،مصیبت واندوہ کی کچھ نہایت ہے، فاقہ پر فاقہ ہیں، پانی کانام و نشان نہیں، بھوکے پیاسے فرزند تڑپ تڑپ کر جانیں دے چکے ہیں، جلتے ریت پر فاطمی نونہال ظلم و جفاسے ذبح کئے گئے، عزیز
1۔۔۔۔۔۔روضۃ الشہداء (مترجم) ، باب نہم، ج۲، ص۲۱۶۔۳۳۴ ملخصاً و ملتقطاً
Flag Counter