Brailvi Books

سوانحِ کربلا
158 - 188
سینہ پر ایک ایسا نیزہ مارا کہ طارق کی پیٹھ سے نکل گیا اور وہ ایک دم گھوڑے سے گرگیا۔ شہزادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بکمالِ ہنرمندی گھوڑے کو ایڑھ دے کر اس کو روندھ ڈالا اور ہڈیاں چکنا چور کردیں۔ یہ دیکھ کر طارق کے بیٹے عمر بن طارق کو طیش آیا اوروہ جھلاتا ہوا گھوڑا دوڑا کر شہزادہ پر حملہ آور ہوا شاہزادہ نے ایک ہی نیزہ میں اس کا کام بھی تمام کیا۔ اس کے بعد اس کا بھائی طلحہ بن طارق اپنے باپ اور بھائی کا بدلہ لینے کے لئے ا ۤتشیں شعلہ کی طرح شہزادہ پر دوڑ پڑا۔ حضرت علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے گریبان میں ہاتھ ڈال کرزین سے اٹھالیا اور زمین پر اس زور سے پٹکا کہ اس کا دم نکل گیا، شہزادہ کی ہیبت سے لشکر میں شور برپا ہوگیا۔ابن سعد نے ایک مشہور بہادر مصراع ابن غالب کو شہزادہ کے مقابلہ کیلئے بھیجا، مصراع نے شہزادہ پر حملہ کیا، آپ نے تلوار سے نیزہ قلم کرکے اس کے سر پر ایسی تلوار ماری کہ زین تک کٹ گئی دو ٹکڑے ہوکر گر گیا، اب کسی میں ہمت نہ رہی تھی کہ تنہا اس شیر کے مقابل آتا، ناچار ابن سعد نے محکم بن طفیل اور ا بن نوفل کو ایک ایک ہزار سواروں کے ساتھ شاہزادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر یکبار گی حملہ کرنے کیلئے بھیجا۔ شاہزادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نیزہ اٹھاکر ان پر حملہ کیا اور انہیں دھکیل کر قلب لشکر تک بھگادیا۔

    اس حملہ میں شہزادہ کے ہاتھ سے کتنے بدنصیب ہلاک ہوئے، کتنے پیچھے ہٹے، آپ پر پیاس کی شدت بہت ہوئی، پھر گھوڑا دوڑا کرپدرِ عالی قدر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اَلْعَطَشْ اَلْعَطَشْبابا!پیاس کی بہت شدت ہے۔ اس مرتبہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' اے نورِدیدہ !حوضِ کوثر سے سیرابی کا وقت قریب آگیاہے، دستِ مصطفی علیہ التحیۃ والثناء سے وہ جام ملے گا جس کی لذت نہ تصور میں آسکتی