Brailvi Books

سوانحِ کربلا
157 - 188
ہوئے ہیں وہ تمازتِ آفتاب سے آگ ہو رہے ہیں۔ اگر اس وقت حلق تر کرنے کے لئے چند قطرے مل جائیں توفاطمی شیرگُرْبَہ خصلتوں کو پیوندِخاک کر ڈالے۔شفیق باپ نے جانباز بیٹے کی پیاس دیکھی مگر پانی کہاں تھا جو اس تشنۂ شہادت کو دیا جاتا، دستِ شفقت سے چہرۂ گلگوں کا گردو غبار صاف کیا اور اپنی انگشتری فرزند ِارجمند کے دَہان اقدس میں رکھدی۔ پدرِ مہربان کی شفقت سے فی الجملہ تسکین ہوئی پھر شہزادہ نے میدان کا رخ کیا پھر صدا دی:''ہَلْ مِنْ مُّبَارِزْ''کوئی جان پر کھیلنے والا ہوتو سامنے آئے۔ 

    عمربن سعد نے طارق سے کہا: بڑے شرم کی بات ہے کہ اہل بیت کا اکیلا نوجوا ن میدان میں ہے اور تم ہزاروں کی تعداد میں ہو، اس نے پہلی مرتبہ مبارز طلب کیا تو تمہاری جماعت میں کسی کو ہمت نہ ہوئی پھر وہ آگے بڑھاتو صفیں کی صفیں درہم برہم کرڈالیں اور بہادروں کاکھیت کردیا، بھوکا ہے ، پیاسا ہے، دھوپ میں لڑتے لڑتے تھک گیا ہے، خستہ اور ماندہ ہوچکاہے پھر مبارز طلب کرتاہے اور تمہاری تازہ دم جماعت میں سے کسی کو یارائے مقابلہ نہیں۔ تف ہے تمہارے دعوائے شجاعت و بسالت پر ،ہو کچھ غیرت تو میدان میں پہنچ کر مقابلہ کرکے فتح حاصل کر تو میں وعدہ کرتاہوں کہ تونے یہ کام انجام دیا تو عبداللہ ابن زیاد سے تجھ کو موصل کی حکومت دلادوں گا۔ طارق نے کہا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر میں فرزند ِرسول اور اولاد ِبتول سے مقابلہ کرکے اپنی عاقبت بھی خراب کروں پھر بھی تو اپنا وعدہ وفانہ کرے تو نہ میں دنیا کارہا نہ دین کا۔ ابن سعد نے قسم کھائی اور پختہ قول و قرارکیا۔اس پر حریص طارق موصل کی حکومت کی لالچ میں گلِ بستانِ رسالت کے مقابلہ کے لئے چلا، سامنے پہنچتے ہی شہزادۂ والاتبار پر نیزہ کا وار کیا۔ شاہزادۂ عالیجاہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا نیزہ ردفرماکر