مبارز طلب فرمایا صف اعداء میں کسی کو جنبش نہ ہوئی، کسی بہادر کا قدم نہ بڑھا، معلوم ہوتا تھا کہ شیر کے مقابل بکریوں کا ایک گلہ ہے جو دم بخود اور ساکت ہے۔
حضرت علی اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر نعرہ مارا اور فرمایا کہ اے ظالمانِ جفا کیش! اگر بنی فاطمہ کے خون کی پیاس ہے تو تم میں سے جوبہادر ہواسے میدان میں بھیجو ، زور بازوئے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیکھنا ہوتو میرے مقابل آؤ۔ مگر کس کو ہمت تھی کہ آگے بڑھتا، کس کے دل میں تاب و تواں تھی کہ شیر ژیاں کے سامنے آتا۔ جب آپ نے ملاحظہ فرمایاکہ دشمنان خونخوار میں سے کوئی ایک آگے نہیں بڑھتا اور ان کوبرابر کی ہمت نہیں ہے کہ ایک کو ایک کے مقابل کریں تو آپ نے سَمَندبادپا کی با گ اٹھائی اور توسن ِصبا رفتار کے مِہْمِیْز لگائی اور صاعقہ وار دشمن کے لشکر پرحملہ کیا، جس طرف زد کی پرّے کے پرّے ہٹادئیے، ایک ایک وار میں کئی کئی دیو پیکر گرادئیے، ابھی مَیْمَنَہ پر چمکے تو اس کو منتشر کیا، ابھی مَیْسَرَہ کی طرف پلٹے تو صفیں درہم برہم کرڈالیں۔ کبھی قلب لشکر میں غوطہ لگایا تو گردن کشوں کے سر موسم خزاں کے پتوں کی طرح تن کے درختوں سے جدا ہوکر گرنے لگے، ہر طرف شوربرپا ہوگیا، دلاوروں کے دل چھوٹ گئے، بہادروں کی ہمتیں ٹوٹ گئیں، کبھی نیزے کی ضرب تھی، کبھی تلوار کا وار تھا، شہزادۂ اہلِ بیت کا حملہ نہ تھا عذابِ الٰہی کی بلائے عظیم تھی۔
دھوپ میں جنگ کرتے کرتے چمنستانِ اہلِ بیت کے گلِ شاداب کو تشنگی کا غلبہ ہوا، باگ موڑ کر والدِ ماجد کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا: