جس وقت شاہزادۂ عالی قدررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ رَجز پڑھی ہوگی کربلا کا چپہ چپہ اور ریگستانِ کوفہ کاذرہ ذ رہ کانپ گیا ہوگا۔ ان مدعیانِ ایمان کے دل پتھر سے بدرجہا بدتر تھے جنہوں نے اس نوبادۂ چمنستانِ رسالت کی زبانِ شیریں سے یہ کلمے سنے پھر بھی ان کی آتشِ عِناد سَرْد نہ ہوئی اور کمینہ سینہ سے کینہ دور نہ ہوا۔ لشکریوں نے عمربن سعد سے پوچھا: یہ سوار کون ہے جس کی تجلی نگاہوں کوخِیْرہ کر رہی ہے اور جس کی ہیبت و صَولَت سے بہادروں کے دل ہر اساں ہیں، شانِ شجاعت اس کی ایک ایک ادا سے ظاہر؟ کہنے لگا: یہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزند ہیں، صورت و سیرت میں اپنے جد کریم علیہ الصلوٰۃ و التسلیم سے بہت مناسبت رکھتے ہیں۔ یہ سن کر لشکریوں کو کچھ پریشانی ہوئی اور ان کے دلوں نے ان پر ملامت کی کہ اس آقازادے رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابل آنا اور ایسے جلیل القدر مہمان کے ساتھ یہ سلوک بے مروتی کرنا نہایت سفلہ پن اور بد باطنی ہے ، لیکن ابن زیاد کے وعدے اور یزید کے انعام و اکرام وطمعِ د ولت و مال کی حرص نے اس طرح گرفتار کیاتھا کہ وہ اہل بیت اطہار کی قدرو شان اور اپنے افعال و کردار کی شامت و نحوست جاننے کے باوجود اپنے ضمیر کی ملامت کی پرواہ نہ کرکے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے باغی بنے اور آل رسول کے خون سے کنارہ کرنے اور اپنے دارین کی روسیاہی سے بچنے کی انہوں نے کوئی پرواہ نہ کی شاہزادۂ عالی وقاررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے