Brailvi Books

سوانحِ کربلا
154 - 188
صولت نے مرحبا کہا شوکت تھی رجز خواں 



جرأت نے باگ تھامی شجاعت نے کی رکاب 

چہرہ کو اس کے دیکھ کے آنکھیں جھپک گئیں 



دل کانپ اٹھے ہوگیا اعداء کو اضطراب 

سینوں میں آگ لگ گئی اعدائے دین کے 



غیظ و غضب کے شعلوں سے دل ہوگئے کباب 

نیزہ جگر شگاف تھا اس گل کے ہاتھ میں



یا اژدہا تھا موت کا یا اسوء العقاب 

چمکا کے تیغ مردوں کو نامرد کردیا



اس سے نظر ملاتا یہ تھی کس کے دل میں تاب

کہتے تھے آج تک نہیں دیکھا کوئی جواں 



ایسا شجاع ہوتا جو اس شیر کا جواب

میدان کار لرزہ براندام ہوگئے 



شیرا فگنوں کی حالتیں ہونے لگیں خراب

کہنہ پیکروں کو تیغ سے دو پارہ کردیا



کی ضرب خَود پر تو اڑا ڈالا تا رکاب 

تلوار تھی کہ صاعقۂ برق بار تھا



یا ازبرائے رجم شیاطین تھا شہاب 

چہرہ میں آفتاب نبوت کا نور تھا



آنکھوں میں شان صولت سرکار بو تراب 

پیاسا رکھا جنہوں نے انہیں سیر کردیا 



اس جود پر ہے آج تری تیغ زہر آب 

میداں میں اس کے حسن عمل دیکھ کر نعیم 

حیرت سے بد حواس تھے جتنے تھے شیخ و شاب
    میدان کربلا میں فاطمی نوجوان پُشْتِ سَمَنْدپر جلوہ آراتھا،  چہرہ کی تابش ماہِ تاباں کو شرمارہی تھی، سروقامت نے اپنے جمال سے ریگستان کو بستانِ حسن بنادیا، جوانی کی بہاریں قدموں پر نثار ہورہی تھیں،سنبل کاکُل سے خجل، برگ ِگل اس کی نزاکت سے مُنْفَعِل ، حسن کی تصویر،مصطفی کی تنویر حبیب کبریا علیہ التحیۃ والثناء کے جمال اقدس کاخطبہ پڑھ رہی تھی، یہ چہرۂ تاباں اس روئے درخشاں کی یاد دلارہاتھا۔ ان سنگدلوں پر حیرت جو اس گلِ شاداب کے مقابلہ کا ارادہ رکھتے تھے، ان بے دینوں پر بے شمار نفرت جو حبیب
Flag Counter