صولت نے مرحبا کہا شوکت تھی رجز خواں
جرأت نے باگ تھامی شجاعت نے کی رکاب
چہرہ کو اس کے دیکھ کے آنکھیں جھپک گئیں
دل کانپ اٹھے ہوگیا اعداء کو اضطراب
سینوں میں آگ لگ گئی اعدائے دین کے
غیظ و غضب کے شعلوں سے دل ہوگئے کباب
نیزہ جگر شگاف تھا اس گل کے ہاتھ میں
یا اژدہا تھا موت کا یا اسوء العقاب
چمکا کے تیغ مردوں کو نامرد کردیا
اس سے نظر ملاتا یہ تھی کس کے دل میں تاب
کہتے تھے آج تک نہیں دیکھا کوئی جواں
ایسا شجاع ہوتا جو اس شیر کا جواب
میدان کار لرزہ براندام ہوگئے
شیرا فگنوں کی حالتیں ہونے لگیں خراب
کہنہ پیکروں کو تیغ سے دو پارہ کردیا
کی ضرب خَود پر تو اڑا ڈالا تا رکاب
تلوار تھی کہ صاعقۂ برق بار تھا
یا ازبرائے رجم شیاطین تھا شہاب
چہرہ میں آفتاب نبوت کا نور تھا
آنکھوں میں شان صولت سرکار بو تراب
پیاسا رکھا جنہوں نے انہیں سیر کردیا
اس جود پر ہے آج تری تیغ زہر آب
میداں میں اس کے حسن عمل دیکھ کر نعیم
حیرت سے بد حواس تھے جتنے تھے شیخ و شاب