| سوانحِ کربلا |
مبارک سے لگائے، فولادی مِغْفَر سر پر رکھا، کمر پرپٹکا باندھا، تلوار حمائل کی، نیزہ اس ناز پر وردۂ سیادت کے مبارک ہاتھ میں دیا اس وقت اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی بیبیوں بچوں پر کیا گزر رہی تھی جن کا تمام کنبہ و قبیلہ برادر و فرزند سب شہید ہوچکے تھے اور ایک جگمگاتا ہوا چراغ بھی آخری سلام کررہاتھا۔
ان تمام مصائب کواہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رضا ئے حق کے لئے بڑے اِسْتِقْلال کے ساتھ برداشت کیا اور یہ انھیں کا حوصلہ تھا۔ حضرت علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خیمہ سے رخصت ہوکر میدان کارزار کی طرف تشریف فرماہوئے، جنگ کے مطلع میں ایک آفتاب چمکا،مشکین کا کُل کی خوشبو سے میدان مہک گیا، چہرہ کی تجلی نے معرکۂ کارزار کو عالَمِ انوار بنادیا۔(1) ؎نور نگاہ فاطمۂ آسماں جناب صبرِ دلِ خدیجۂ پاک ارم قباب لخت دل امام حسین ابنِ ابو تراب شیر خدا کا شیر وہ شیروں میں انتخاب صورت تھی انتخاب تو قامت تھا لاجواب گیسو تھے مشک ناب تو چہرہ تھا آفتاب چہرہ سے شاہزادہ کا اٹھا جبھی نقاب مہر سپہر ہوگیا خجلت سے آب آب کاکل کی شام رخ کی سحر موسم شباب سنبل نثار شام فدائے سحر گلاب شہزادۂ جلیل علی اکبرِ جمیل بستان حُسن میں گل خوش منظر شباب پالا تھا اہل بیت نے آغوش ناز میں! شرمندہ اس کی ناز کی سے شیشۂ حباب صحرائے کوفہ عالَمِ انوار بن گیا! چمکا جو رن میں فاطمہ زہرا کا ماہتاب خورشید جلوہ گر ہوا پُشْتِ سَمَنْد پر یا ہاشمی جوان کے رُخ سے اٹھا نقاب
۔۔۔۔۔۔روضۃ الشہداء (مترجم) ، باب نہم، ج۲، ص۲۱۶۔۳۳۴ ملخصاً و ملتقطاً