Brailvi Books

سوانحِ کربلا
152 - 188
کے چمنستان کی دلکش فضاء ان کی آنکھوں کے سامنے ہوتی تھی ، میدانِ کربلا کی راہ سے اس منزل تک پہنچنا چاہتے تھے۔

     فرزند انِ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے محاربہ نے دشمن کے ہوش اڑادئیے، ابنِ سعد نے اعتراف کیا کہ اگر فریب کاریوں سے کام نہ لیاجاتا یا ان حضرات پر پانی بند نہ کیا جاتا تو اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا ایک ایک نوجوان تمام لشکر کوبربا د کرڈالتا، جب وہ مقابلہ کیلئے اٹھتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ قہرالٰہی عزوجل آرہاہے، ان کا ایک ایک ہُنَرْوَرْ صف شکنی و مبارزفگنی میں فردتھا۔ الحاصل اہلِ بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نونہالوں اور ناز کے پالوں نے میدان کربلا میں حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اپنی جانیں فدا کیں اور تیر وسناں کی بارش میں حمایتِ حق سے منہ نہ موڑا، گردنیں کٹوائیں ،خون بہائے ، جانیں دیں مگر کلمۂ ناحق زبان پر نہ آنے دیا، نوبت بہ نوبت تمام شہزادے شہید ہوتے چلے گئے۔ اب حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ان کے نورِ نظرحضرت علی اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضر ہیں، میدان کی اجازت چاہتے ہیں، مِنَّت وسَماجَت ہورہی ہے، عجیب وقت ہے، چہیتا بیٹا شفیق باپ سے گردن کٹوانے کی اجازت چاہتاہے اور اس پر اصرار کرتاہے جس کی کوئی ہٹ ، کوئی ضدایسی نہ تھی جو پوری نہ کی جاتی، جس نازنین کو کبھی پدرِ مہربان نے انکاری جواب نہ دیاتھا آج اس کی یہ تمنا یہ التجا دل وجگر پر کیا اثر کرتی ہوگی۔ اجازت دیں تو کس بات کی! گردن کٹانے اور خون بہانے کی! نہ دیں تو چمنستانِ رسالت کا وہ گلِ شاداب کمہلایا جاتاہے مگر اس آرزو مند ِشہادت کا اصرا ر اس حد پر تھا اور شوقِ شہادت نے ایسا وار فتہ بنادیا تھا کہ چا رونا چارحضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اجازت دینا ہی پڑی۔ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس نوجوان جمیل کو خود گھوڑے پر سوار کیا، اسلحہ اپنے دست