Brailvi Books

سوانحِ کربلا
151 - 188
سے شجاعت و جو انمردی کے وہ بے مثال نُقوش ثَبَت فرمائے جن کو تَبَدُّلِ اَزْمِنَہ کے ہاتھ مَحْوکرنے سے قاصر ہیں۔ اب تک نیاز مندوں اور عقیدت کیشوں کی معرکہ آرائیاں تھیں جنہوں نے عَلَم بردار انِ شجاعت کو خاک و خون میں لِٹا کر اپنی بہادری کے غُلْغُلے دکھائے تھے اب اسد اللہ کے شیرانِ حق کا موقع آیا اور علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خاندان کے بہادروں کے گھوڑوں نے میدانِ کر بلا کو جولانگاہ بنایا۔

    ان حضرات کا میدان میں آنا تھا کہ بہادروں کے دل سینوں میں لرزنے لگے اور ان کے حملوں سے شیردل بہاد ر چیخ اٹھے، اسد اللہی تلواریں تھیں یا شِہابِ ثاقِب کی آتش باری، بنی ہاشم کی نبردآزمائی اور جاں شکار حملوں نے کربلا کی تشنہ لب زمین کو دشمنوں کے خون سے سیراب کردیا اور خشک ریگستان سرخ نظر آنے لگا۔ نیزوں کی نوکوں پر صف شکن بہادروں کو اٹھانا اورخاک میں ملانا ہاشمی نوجوانوں کا معمولی کرتب تھا، ہر ساعت نیا مبارز آتاتھا اور ہاتھ اٹھاتے ہی فنا ہوجاتاتھا، ان کی تِیغ بے نیام اجل کا پیام تھی اور نوکِ سناں قضا کا فرمان، تلواروں کی چمک نے نگاہیں خِیْرہ کردیں اورحرب و ضرب کے جوہر دیکھ کر کوہ پیکر ترساں وہراساں ہوگئے۔ کبھی مَیْمَنَہ پر حملہ کیا تو صفیں درہم برہم کر ڈالیں معلوم ہوتا تھا کہ سوار مقتولوں کے سمند ر میں تیر رہا ہے کبھی مَیْسَرَہ کی طرف رخ کیا تومعلوم ہوا کہ مردوں کی جماعت کھڑی تھی جو اشارہ کرتے ہی لوٹ گئی۔ صاعقہ کی طرح چمکنے والی تیغ خون میں ڈوب ڈو ب کرنکلتی تھی اور خون کے قطرات اس سے ٹپکتے رہتے تھے۔ اس طر ح خاندان امام کے نوجوان اپنے اپنے جوہر دکھا دکھا کر امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر جان قربان کرتے چلے جارہے تھے۔ خیمہ سے چلتے تھے تو
بَلْ اَحْیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمْ (1)
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنز الایمان:بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں۔ (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۶۹)
Flag Counter