شادباش کہ میں نے تیری تقصیر معاف کی اور اس سعادت کے حصول کی اجازت دی۔ ''
حُراجازت پاکر میدان کی طرف روانہ ہوا،گھوڑا چمکاکرصفِ اعداء پر پہنچا، حُر کے بھائی مصعب بن یزید نے دیکھا کہ حُرنے دولت سعادت پائی اور نعمت آخرت سے بہرہ مند ہوا اور حرصِ دنیا کے غبار سے اس کا دامن پاک ہوا، اس کے دل میں بھی ولولہ اٹھااور باگ اٹھاکر گھوڑادوڑا تا ہوا چلا۔ عمربن سعد کے لشکر کوگمان ہواکہ بھائی کے مقابلہ کے لئے جاتاہے۔ جب میدان میں پہنچا ، بھائی سے کہنے لگا:بھائی! تو میرے لئے خِضْرِ راہ ہوگیا اور مجھے تونے سخت ترین مَہْلَکَہ سے نجات دلائی، میں بھی تیرے ساتھ ہوں اور رَفاقَتِ حضرتِ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ اعدائے بدکیش کو اس واقعہ سے نہایت حیرانی ہوئی۔ یہ واقعہ دیکھ کر عمربن سعد کے بدن پر لرزہ پڑگیااوروہ گھبرا اٹھا اور اس نے ایک شخص کو منتخب کرکے اس کے لئے بھیجا اور کہا کہ رِفق و مدارات کے ساتھ سمجھا بہکا کر حُر کو اپنے موافق کرنے کی کوشش کرے اورا پنی چالبازی اور فریب کاری انتہاکو پہنچادے۔ پھر بھی ناکامی ہو تو اس کا سرکاٹ کر لے آئے۔ وہ شخص چلا او ر حُر سے آکر کہنے لگا، اے حر! تیری عقل و دانائی پر ہم فخر کیا کرتے تھے مگر آج