Brailvi Books

سوانحِ کربلا
149 - 188
تونے کمال نادانی کی کہ اس لشکرِجَرَّار سے نکل کر یزید کے انعام وا کرام پر ٹھوکر مار کر چند بیکس مسافروں کا ساتھ دیا جن کے ساتھ نانِ خشک کا ایک ٹکڑا اور پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ہے، تیری اس نادانی پر افسوس آتا ہے۔ حر نے کہا: ''اے بے عقل ناصح تجھے اپنی نادانی پررنج کرنا چاہیے کہ تو نے طاہر کو چھوڑ کر نجس کو قبول کیا اور دولت باقی کے مقابلہ میں دنیائے فانی کے مَوہُوم آرام کوترجیح دی، حضور سیدعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپناپھول فرمایا ہے۔ میں اس گلستانِ رسالت پرجان قربان کرنے کی تمنا رکھتاہوں، رضائے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کونَین میں کونسی دولت ہے۔ ''کہنے لگا:'' اے حُر! یہ تو میں بھی خوب جانتا ہوں لیکن ہم لوگ سپاہی ہیں اور آج دولت و مال یزید کے پاس ہے۔'' حُر نے کہا:''اے کم ہمت! اس حوصلہ پر لعنت ۔''

    اب تو ناصح بد باطن کویقین ہوگیا کہ اس کی چَرْب زبانی حُرپر اثر نہیں کرسکتی، اہلِ بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی محبت اس کے قلب میں اتر گئی ہے اور اس کا سینہ آلِ ر سول علیہ السلام کی وِلا سے مَمْلوہے، کوئی مکرو فریب اس پر نہ چلے گا۔ باتیں کرتے کرتے ایک تیرحُر کے سینہ پر کھینچ مارا،حُرنے زخم کھاکر ایک نیزہ کاوار کیاجو سینہ سے پار ہوگیا اور زِین سے اٹھا کر زمین پر پٹک دیا۔ اس شخص کے تین بھائی تھے،یکبارگی حُر پر دوڑ پڑے، حر نے آگے بڑھ کرایک کا سر تلوار سے اڑادیا۔ دوسرے کی کمر میں ہاتھ ڈال کر زِین سے اٹھا کر اس طرح پھینکا کہ گردن ٹوٹ گئی۔ تیسرا بھاگ نکلا اورحرنے اس کا تعاقب کیا، قریب پہنچ کر اس کی پشت پر نیزہ مارا وہ سینہ سے نکل گیا، ا ب حر نے لشکر ِ ابنِ سعد کے مَیْمَنَہ پر حملہ کیا اور خوب زورکی جنگ ہوئی،لشکر ابن سعد کو حر کے جنگی ہنر کا اعترا ف کرنا پڑا اور وہ جانباز صادق دادِ شجاعت دے کر فرزند ِرسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر جان فدا کرگیا۔