چہرہ زرد ہے، پریشانی کے ا ۤثار نمایاں ہیں،دل دھڑک رہاہے، ان کے بھائی مصعب بن یزید نے ان کایہ حال دیکھ کر پوچھا کہ اے برادر! آپ مشہور جنگ آزمااوردلاور وشجاع ہیں، آپ کے ليے یہ پہلا ہی معرکہ نہیں بارہا جنگ کے خونیں مناظر آپ کی نظر کے سامنے گزرے ہیں اور بہت سے دیوپیکر آپ کی خون آشام تلوار سے پیو ند خاک ہوئے ہیں۔ آپ کا یہ کیاحال ہے اور آپ پر اس قدرخوف وہراس کیوں غالب ہے؟
حُر نے کہا کہ اے برادر! یہ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرزند سے جنگ ہے، اپنی عاقبت سے لڑائی ہے،میں بہشت ودوزخ کے درمیان کھڑا ہوں، دنیا پوری قوت کے ساتھ مجھ کو جہنم کی طرف کھینچ رہی ہے اور میرا دل اس کی ہیبت سے کانپ رہاہے۔ اسی اثناء میں حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز آئی فرماتے ہیں:''کوئی ہے جو آج آلِ رسول پر جان نثار کرے اور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی حضوری میں سرخروئی پائے۔''
یہ صدا تھی جس نے پاؤں کی بیڑیاں کاٹ دیں، دلِ بے تاب کو قرار بخشا اور اطمینان ہوا کہ شاہزادۂ کونین حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میری پہلی جرأت سے چشم پوشی فرمائیں توعجب نہیں، کریم نے کرم سے بشارت دی ہے، جان فدا کرنے کے ارادہ سے چل پڑو۔ گھوڑا دوڑایا اور امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوکر گھوڑے سے اتر کر نیاز مندوں کے طریقہ پر رِکاب تھامی اور عرض کیا کہ اے ابنِ رسول ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم، فرزندِ بتول!میں وہی حُر ہوں جو پہلے آپ کے مقابل آیا اور جس نے آپ کو اس میدان بیابان میں روکا۔ اپنی اس جسارت و مبادرت پر نادم ہوں، شرمندگی اور خَجالَت نظر نہیں اٹھانے دیتی ، آپ کی کریمانہ صدا سن کر امیدوں نے ہمت بندھائی تو حاضر خدمت ہواہوں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کرم سے کیا بعید کہ عفوِ جرم فرمائیں اور